پروفایل اشتراکی aikrozan

حقیقت سوری جن ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن | رات کی رانی‘‘: عورت کے باطن کو موضوع بناتی کہانیـاں — aik ... | ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن | ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن | ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن | رمضانی کہانچیـاں : مائیکرو فکشن — aik Rozan ایک روزن | اردو کا نیـا فکشن — aik Rozan ایک روزن | ہم لکھتے کب نہیں: قاری کے نام معافی نامہ — aik Rozan ایک روزن |

حقیقت سوری جن

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن

ڈاکٹر ڈینس آئزک

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟

از، حقیقت سوری جن سرفراز تبسُّم

ڈرامہ نگار ہو شاعر ہو موسیقار ہو یـا پھر ایک مصّور اُسے فن کی داد دینے والوں کی ضرورت رہتی ہی ہے اگر فن کار کے فن کو سراہا نہ جائے تو پہلے فن مرتا ہے پھر فنکار اور اگر خوش قسمتی سےی تخلیق کار کو مخلص پیـار کرنے والے چاہت والے لوگ مل جائیں تو تخلیق کار کی تخلیق یـافن پارہ بے مثال ہوجاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا ہفتہ بھر بے چینی سے انتظار کیـا کرتے تھے۔ 80ء کے آغاز مـیں ایک نام ڈرامہ رائٹر کے طور پر اُبھرا ان کا پہلا ڈرامہ سیریز   1982’دو راہ‘ کے نام سے ٹیلی وژن پشاور سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔ پھر سلسلہ وار ان کے مشہور ڈرامے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے گئے ان کے ڈراموں کی فہرست مـیں سلاخیں 1988، کرب، بارش 1990، 1992، اور پھر کچھ اقساط گیسٹ ہاؤس 1992 کے علاو ہ تھوڑی سی زندگی 1999، شامل رہے ہیں۔ جن کے خالق کا نام آج کہیں نظر نہیں آتا وہ نام ہے ڈاکٹر ڈینس آئزک کا جن کے لکھے ڈرامے ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں نشر ہوا کرتے تھے تو لوگ بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے ان کے لکھے ڈرامے اور فلمـیں دیکھا کرتے تھے۔

آغاز کے دنوں مـیں ہی انہوں نے شہرہ آفاق فرانسیسی ناول (Around the World in Eighty Days) کا اردو ترجمہ بھی کی۔ اسی دور مـیں ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں ایک فلم (انتہا 1999) بھی ریلیز ہوئی جو سپُرہٹ رہی۔ اسی فلم کے لیے انہیں بہترین سکرین پلے رائٹر نیشنل فلم فیئرایوارڈ سے نوازا گیـا۔

ایوارڈ ز کا باقاعدہ سلسلہ PTV ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1979 ڈرامہ سیریل سے شروع ہوا پھر ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1978 ڈرامہ سیریل ‘کرب‘، ہزارہ آرٹس کونسل ایوارڈ 1985، پاکستان کرسچین آرٹس کونسل ایوارڈ 1995، تاک کاشمـیری لٹریری ایوارڈ 1996، جوشوا فضل دین ایوارڈ 1996، PTV گولڈن جوبلی گولڈ مـیڈل 1997، بزمِ فانوس ایوار ڈکینیڈا 2010 سے نوازا  گیـا۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک 11 جنوری 1951 کو پاکستان کے شہر پشاور مـیں پیدا ہوئے۔ 1970 مـیں خیبر مـیڈیکل کالج سے انہوں نے گریجویشن کیـا۔ بعدازاں لیڈی ریڈنگ ہوسپٹل مـیں 25 سال بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں۔ پھر 2000 مـیں اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کر گئے۔

تاہم مـیرے لیے یہ بات باعثِ فخر ہے کہ 90 کی دھائی مـیں نئے لکھنے والوں کے لیے ایک پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ و کانفرنس منعقد ہوئی جس مـیں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع ملا اور یوں مجھے چند دن ڈاکٹر ڈینس آئزک کی قربت نصیب ہوئی۔ یـاد پڑتا ہے کہ مـیرا ان سے پہلا تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ہم لوگ ورکشاپ سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے اور کچھ ذمہ داریـاں بھی ہمـیں سونپ دی گئیں۔

اس دن اتنا کام کرنا پڑا کہ ہم جلدی ہی سو گئے اور پھر اگلی صبح مـیں اپنی عادت کے مطابق علی الصبح ہی اُٹھ گیـا۔ نہا دھو کر مـیں ایک ادبی رسالہ اُٹھائے باہر نکل گیـا اور ہوٹل کی راہ داری کے ساتھ لگی سیڑھیوں پر بیٹھ گیـا اور (ادبی جریدہ تسطیر) کی ورق گردانی کرنے لگا کہ اچانک مـیرے دوسری جانب ایک گاڑی رکنے کی آواز آئی جس مـیں سے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب نمودار ہوئے۔

ایک شخص ان کا سامان پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔ مـیرے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے مـیری طرف دیکھ کرHello کہا اور ہلکا سا مسکرائے۔ اچانک ان کی نظر مـیرے ہاتھ مـیں پکڑے جریدہ تسطیرپر پڑی توپوچھنے لگے ’کیـایہ تسطیر کا نیـا شمارہ ہے؟‘، مـیں نے کہا جی سر۔ یہ سن کر انہوں نے مثبت انداز مـیں سر ہلایـا اور پروگرام مـیں ملنے کا کہہ کر چلے گئے۔

اس ورکشاپ مـیں کوئی 40/50 نئے لکھنے والے شامل رہے ہوں گے۔ مگر اس وقت سب سے زیـادہ مـیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ فارغ وقت گزارتاتھا۔

ہم ہر شام فارغ ہوکر ہوٹل کیساتھ ایک جھیل کے کنارے لگے بنچوں پر بیٹھ جاتے اور دیر تک باتیں کرتے۔ مجھے آج بھی ان کے سنائے لطیفے خاص طور پر یـاد ہیں کچھ لطائف مـیں تو مـیڈیم نورجہاں اور جگجیت سنگھ کا بھی ذکر بھی ہوا کرتا تھا۔ اسی دوران مجھے ڈاکٹر صاحب کی دیگر خصوصیـات کا بھی علم ہوا کہ وہ جتنے اچھے ڈرامہ نگار ہیں اتنے ہی باکمال شاعر، مصّور، اور موسیقارو گائیک بھی ہیں۔ اسی ورکشاپ کے دوران انہوں نے اپنی شاعری اپنی کمپوزیشن مـیں گیت اور غزلیں بھی گائیں۔ ان کے اتنے روپ دیکھ کرمجھے دیر تک واقعی حیرت ہوتی رہی۔

سپین مـیں ایک ڈیڑھ دھائی رہنے کے بعد آج کل مـیں انگلینڈ کے شہر لیسٹر مـیں مقیم ہوں، اس سال مـیں نے جناب نذیر قیصر (ہمارے عہد کے باکمال شاعر دانشور و فلاسفر) کے ساتھ ایک شام منانے کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیـا تو ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کاخیـال آیـا۔

مـیں نے ان کی تلاش شروع کی تو دو دن مـیں نے کئی فون کیے انٹرنیٹ پران کی تلاش کی مگرکہیں سے ان کوئی پتا نہ ملا۔ مجھے بہت حیرت ہونے لگی پھر مجھے اچانک ان کے ایک قریبی دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل (جو عرصہ درازسے کینیڈ امـیں مقیم ہیں) کا فون نمبر مل گیـا۔ مـیں نے ان کے نمبرپر بے شمار کال کیں، مـیسج بھی چھوڑا۔ مگر بات نہ ہوسکی اگلے روز مـیں نے پھر کوشش کی تو مـیری ڈاکٹر خالد سہیل سے بات ہوگئی تو مـیں نے عرض کیـا کہ جی سر مجھے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کا کوئی رابطہ نمبر مل سکتا ہے، مـیں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں تو ڈاکٹر خالد سہیل مجھے پوچھنے لگے ’آپبول رہے ہیں تومـیں نے عرض کیـاجی مـیں ان کا ایک چھوٹا سا عقید ت مند سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔

وہ فرمانے لگے مدت ہوئی مـیری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جن دنوں وہ نئے نئے کینیڈا آئے تھے تو ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اب بہت وقت ہوا ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم مـیں ان کا ایک پرانا نمبر جو مـیرے پاس ہے آپ کو دے دیتا ہوں۔‘

مـیں نے وہ نمبر نوٹ کیـا اور دوسری کال ان کے دیے نمبر پر کی تیسری گھنٹی پر فون اٹھا لیـا گیـا توگفتگو کچھ اس طرح ہوئی:

جی، (Good Evening) مـیں سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک چاہنے والا کیـا مـیں ان سے بات کرسکتا ہوں؟

فون پر ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کی اہلیہ ماریہ آئزک گویـا ہوئیں: حقیقت سوری جن سوری ڈاکٹر صاحب سو رہے ہیں، وہ آپ سے بات نہیں کرسکتے۔

مـیں نے پوچھا جی مـیں وقت فون کروں کہ مـیری ان سے بات ہوسکے تو مـیڈم کہنے لگیں کہ ڈاکٹر صاحب بات کرنے کی پوزیشن مـیں نہیں۔ وہی سے بات نہیں کرتے۔ تو مـیں نے استفسار کیـا تو انہوں کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوچار سال پہلے (dementia) ہوگیـا اور وہ ذہنی طور پر آسودہ نہیں رہے، و ہ سب بھول گئے ہیں۔ انہیں اپنےی دوست کی کوئی پہچان نہیں رہی۔

اس گفتگو کے بعد مـیں سکتہ مـیں آگیـا اور دیر تک ماضی کے جھروکوں مـیں خیـالی تصویریں بنتا رہا۔ اس کے بعد ایک ہفتہ تک اداس و پریشان رہا اور سوچتا رہا کہ آخرایسا کیوں ہوا۔۔۔؟

Related articles

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

. حقیقت سوری جن . حقیقت سوری جن




[ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن حقیقت سوری جن]

نویسنده و منبع: Rozan Postings | تاریخ انتشار: Mon, 20 Aug 2018 18:45:00 +0000



ی عورت کہانی

رات کی رانی‘‘: عورت کے باطن کو موضوع بناتی کہانیـاں — aik ...

’’رات کی رانی‘‘: ی عورت کہانی عورت کے باطن کو موضوع بناتی کہانیـاں
از، ی عورت کہانی حمـیرا اشفاق

احمد جاوید، کے افسانوی مجموعہ مـیں ”رات کی رانی” عورتوں کے مسائل پر لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل ہے۔اس مـیں شامل بارہ کہانیـا ں عورت کےی نای رنگ اور تاثر کی نمائندگی کرتی ہیں۔”عورت” پر لکھنا یـا عورت کو موضوع بنانا دونوں عمل اگرچہ نئے نہیں ہیں لیکن احمد جاوید نے عورت کے ظاہر کو نہیں بلکہ باطن کو موضوع بنایـا ہے۔بقول باچا خان ”کوئی معاشرہ کتنا مہذب ہے اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ عورت کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یہ بارہ کہانیـاں بھی عورت کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ایسی

تصویر کشی کرتی ہیں کہ قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں رہتا کہ ہمارا معاشرہ کتنا مہذب ہے۔
اس مـیں کہانی نویس نے عورتوں کے حقوق کا نعرہ بلند نہیں کیـا جس مـیں مرد کو ہر برائی اور ہر تباہی کے لیے موردِ الزام ٹھہرا دیـا جاتا ہے بلکہ یہ کہانیـاں عورت کو مرکزمانتے ہوئے اس کے ساتھ جڑے ہوئے معاشرے کی سچی اور کھری تصویریں دکھاتی ہیں۔کسی عورت کو اس کے حقوق بتانے سے کہیں بہتر ہے کہ معاشرے کو اس کے فرائض سے آگہی دی جائے۔مؤخرالذکر صورت مـیں شاید ہیی عورت کو حقوق مانگنے کی ضرورت پڑے۔معاشرے کی اٹھان مـیں مرد اور عورت اہم ترین عناصر ہیں اسی لیے ان کا توازن درون اصل معاشرے کا توازن ہے اور ان کا بگاڑ ، معاشرے کو بیمار اور غیر متوازن کر دیتا ہے۔

احمد جاوید کی کہانیوں کے پلاٹ ہمارے ارد گرد کی زندگی سے لیے گئے ہیں ۔اس لیے کوئی واقعہ انوکھا نہیں لگتا۔ان کہانیوں مـیں ،عورت کی پیدائش پر معاشرے کا ردِ عمل،بطور شے ،عورت کو دیکھنے اور پرکھنے کا طریقہ،اس کی شکل کے ظاہری اور اس کے والدین کے مالی حالات کا جائزہ،عورت کو دھتکارنے کا اختیـار،اس کو بطور دان ونی کرنے کی رسم،تاریخی تواہمات مـیں عورت کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک اور ایسے مـیں اس کے تکیے کے نیچے رکھے خواب،کو بہت باریکی سے موضوع بنایـا گیـا ہے۔
پھر وہ انہی خوابوں کا نوحہ لکھنے پرہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان خوابوں کے ٹوٹنے پر ان کے مزاروں پر رنگوں اور بیلوں کی چادر بھی چڑھاتا ہے۔کہیں یہ رنگ مور کے پروں مـیں سمٹ جاتے ہیں اور کہیں یہ رات کی رانی کے پھول بن جاتے ہیں۔کبھی یہ ناتمام آرزوئیں سمندر مـیں ملنے کی خواہش مـیں بیچ منجدھار مـیں دم توڑ دیتی ہیں۔

افسانوی مجموعے”رات کی رانی” مـیں شامل”بیر بہوٹی” ایک ایسی کہانی ہے جس مـیں لڑکی کے ماتھے کے زخم کے داغ علامت بنا تے ہوئے معاشرے کے بد نما داغوں کو نمایـاں کیـا گیـا ہے۔لڑکی کی ظاہری شکل و صورت کو تماش بینوں کی طرح پرکھا جانا، جہیز کے بوجھ تلے دبے بوڑھے ماں باپ اور نفسیـاتی دباؤ کا شکار لڑکی ان تمام کیفیـات کو احمد جاوید نے پوری سچائی اور انسان دوستی سے پیش کیـا ہے۔
مادیت پرستی کے اس دور کو احمد جاوید نے اس کی تمام آلائشوں اور اس منفی رویے کے پڑنے والے اثرات کو پوری مہارت اور مشاہدے کی گہرائی سے پیش کیـا ہے۔ اسی کہانی مـیں جہیز کے بوجھ تلے بوڑھے کلرک کی نفسیـات کو بہت گہرائی سے پیش کیـا گیـا ہے۔

”مـیں نے غلطی کی اور پکڑی گئی … وہ بوڑھا کلرک … اس کی آنکھیں مجھے آج بھی یـاد ہیں جو مـیرے چہرے پر پیوست ہو گئی تھیں … وہ دیر تک مـیری غلطی پر انگلی ٹھکورتا رہا تھا … پھر بڑے طنطنے سے بولا تھا ”…لڑکی… ذات تو مردوں کی ہوتی ہے … عورتوں کی تو کوئی ذات نہیں ہوتی…”
مـیں نے سنا تو ہنس پڑی … اور ہنستے ہنستے کہا … ”انکل لگتا ہے … تمہیں لڑکیـاں بری لگتی ہیں۔”
”ہاں بری لگتی ہیں …” وہ طیش مـیں آ گیـا۔
”اپنی بھی …؟”
”ہاں … اپنی بھی …” وہ مشتعل ہوا تو پنسل کاغذوں پر پھینک مـیزوں کے درمـیان سے ٹھوکریں کھاتا … جھکا جھکا دروازے سے باہر نکل گیـا … مـیں نے دیکھا اس کی جھکی ہوئی پیٹھ پر اس کی لڑکیوں کے بوجھ کے نشانات ابھرے ہوئے تھے… کبڑا کہیں کا …(۱)
احمد جاوید کی کہانی ”گالی ” مـیں منٹو کے کرداروں کی طرح ہوا مـیں ،بند کھڑکیوں کے سامنے تحلیل ہوتی ہو ئی گالیـاں نہیں ہیں ۔اور نا ہی” ہتک” کی سو گندھی کی طرح ایک طوائف کے منہ سے نکلی گالیوں کا طوفان ہے جو اس کے کردار کا لازمـی جزو سا لگتی ہیں۔اس کہانی مـیں اس لفظ کی معنویت جدا ہے ۔یہ ایک ایسی عورت کے منہ سے نکلی ہو ئی گالی ہے جو ہر لمحہ خود کو معاشرے کے سامنے”گالی” بننے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے مگر اس کے باوجود اس کی زندگی کو شک کا گھن چاٹ جاتا ہے ۔مرد کے پاس معاشرے کا دیـا ہوا اختیـار ہے جب چاہےی عورت کو گھر لے آئے اور جب چاہے چوکھٹ سے باہر معاشرے کی گالیـاں کھانے کے لیے چھوڑ دے اور پھر کوئی دوسری لے آئے یـا تیسری۔۔۔عورت کے اسی عدم تحفظ کے احساس کو کہانی کار نے بہت مہارت اور ہمدردی سے پیش کیـا ہے۔ گالی ”مـیں بظاہر ایک عورت کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل نظر آتا ہے لیکن اس عورت کے ساتھ ساتھ بعد منظر مـیں دوسری عورت کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔احمد جاوید بہت لطیف انداز مـیں دوسری عورت کے روپ کو معاشرے کا عمومـی ذہنی رویے کا عکاس بنا کر پیش کرتے ہیںجسے اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن چاہیے جو اس کے پاؤں بھی داب دے اور اس کی نسل بھی آگے بڑھائے ،نہ پسند آئے تو چھوڑ کر بیٹا دوسری لے آئے۔

وہ اختیـار استعمال کرنے کے بعد فتحمندی سے سرشار کھڑا تھا اور یہ اس طرح خجل ہو رہی تھی جیسے اچانک بیچ بازارکسی نے اس سے چھیڑ خانی کی ہو۔ اس کا آنچل کھینچا ہو۔ اس کے جسم کو چھوا ہو۔ ایک بار اس کا جی چاہا کہ آگے بڑھ کر اپنے ناخنوں سے اس کا منہ نوچ لے۔ مگر پھر ضبط کیـا کہ ابھی ایک التجا باقی تھی۔ اٹھی اور اپنے بازوئوں کو اپنے بیٹے کی طرف پھیلا دیـا۔ مرد نے اسے آگے بڑھتے دیکھا تو بچے کا بازو اپنے ہاتھ کی گرفت مـیں لے لیـا۔ ”یہ مـیرا ہے……”

یہ اس کا تھا۔ اس کا وارث تھا۔ اسی کے ذریعے اس کی نسل کا نام آگے بڑھنا تھا وہ اسےی غیر عورت کے سپرد کیسے کر دیتا۔
وہ پھر گڑ گڑانے کے عمل مـیں پڑگئی۔ وہ چیخ رہی تھی مگر کوئی اس کی آواز سننے والا نہیں تھا۔۔۔۔ کوئی اس کی طرف کیسے توجہ دیتا۔

۔۔۔کوئی اس کی طرف کیسے توجہ دیتا حالانکہ اب تو وہ بھی ایک گالی تھی۔ تین لفظوں نے اس کے وجود کو بھی یک گالی بنا دیـا تھا۔(۲)
”گالی ” اور ”بیر بہوٹی ” کا اگر ملا کر تجزیہ کریں تو یہ دونوں کہانیـاں ایک دوسری کا تسلسل نظر آتی ہیں ۔پہلی کہانی مـیں عورت کے ماتھے کا داغ اور معمولی شکل و صورت اس کے ٹھکرائے جانے کی وجہ بنتی ہے تو دوسری کہانی مـیں عورت کا خوبصورت ہونا اس کے لیے مسئلہ پیدا کر دیتا ہے۔گویـا عورت ہونا ہی دکھ ہے خواہ وہ قبول صورت ہو یـا خوب صورت۔

احمد جاوید کی کتاب ”رات کی رانی” عورتوں کے مسائل پر مختلف انداز سے روشنی ڈالتی ہے۔ابھی ایک عورت کا دکھ قاری کو اپنی گرفت مـیں لیے ہوتا ہے کہ اگلی کہانی اسی ایک کہانی کا کوئی دوسرا پہلو سامنے لے آتی ہے۔”رات کی رانی ” ایسی کہانی ہے جس مـیںپھولوں ،رنگوں کی خوشبو ؤںمـیں چھپی ناآسودہ خواہشوں کے سانپی نہی کھڑکی ،دروازے یـا درزسے کمروں مـیں آن داخل ہو تے ہیں۔احمد جاوید نے حقیقت نگاری مـیں بڑھے ہوئے رجحان کی بجائے دھیمے مگر علامتوں کے سہارے کہانی کا تار و پود بُن کر ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھا یـا ہے۔انہوں نے ہم جنس پرستی کے معاشرتی عوامل کو بڑی گہرائی سے پیش کیـا ہے ۔وہ عصمت چغتائی کی طرح ان حقیقتوں سے لحاف نہیں کھینچ لیتے بلکہ ان بد رنگیوںکو پھولوں کی چادر سے ڈھک دیتے جن کے نیچے ناآسودہ خواہشوںکے مزار دفن ہوتے ہیں۔

اس کتاب کی تیسری کہانی ” پارسائی کی گرہ”ایک ایسی کہانی ہے جس مـیں پیـاس کے معنی کو ذومعنی انداز مـیں پیش کیـا گیـا ہے۔ ”مورنی” کا مرکزی کردار گھروں مـیں کام کرنے والے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔وہ ایک ایسا کردار ہے جو صدیوں کی غلامـی مـیں جکڑے جکڑے ،تازہ ہوا کے احساس کو بھی بھول جاتا ہے۔وہ خادمہ بنتِ خادمہ تھی جسے اس کی خدمت کے بدلے صرف رسوائی ملنی تھی۔وہ ایک لمحہ اسے زندگی کے دشت مـیں چھوڑ آتا جہاں سے اس کی واپسی ممکن ہی نہ تھی۔کہانی کا بیـانیہ بہت اعلیٰ ہے ایک عجیب کشمکش مـیں الجھی زندگی اور اس مـیں رنگ بھرنے کی ناکام کوشش مـیں لگے ہوئے کرداروں کو پوری جزئیـات کے ساتھ متشکل کرتاہے۔
جذبوںکی اس کشمکش مـیں بھی افسانہ نگار نے امـیری اور غریبی کے دکھ کو بھلایـا نہیں بلکہ اس خلیج کو اور واضح کردیـا ہے۔

ایک موسم آیـا ایک گزر گیـا۔ وہ جاڑے کا زمانہ تھا جب بڑے صاحب کا لڑکا رخصت ہوا تھا اب گرمـیوں کے تپتے ہوئے روشن دن تھے۔ مگر وہ اک خوف جو لاحق ہوا تھا اب پہلے سے بھی زیـادہ تھا اس لیے کہ مور کی پھڑ پھڑاہٹ بھی پہلے سے زیـادہ تھی جیسے وہ اب جسم سے باہر آنا چاہتا ہو۔ اب تو اس کی آواز اتنی زیـادہ تھی کہ اس کی ماں کو بھی سنائی دیتی تھی سو اک خوف اس کی ماں کی آنکھوں مـیں بھی جاگزیں ہو گیـا تھا۔ پھر ایک شب یہ بھی ہوا کہ ناگہانی ایک پر اس کے پیٹ پر اگ آیـا۔ سنہری اور روپہلا جیسا کہ مور کے پر ہوتے ہیں۔ پھر ہر رات ان مـیں اضافہ بھی ہونے لگا۔ وہ دیکھتی اور حیران ہوتی اس کی ماں دیکھتی تو پریشان ہوتی۔ پریشانی کی بات تو تھی۔ اگر اس کا سارا جسم ایسے پروں سے بھر گیـا تو پھر کیـا ہو گا؟ جو دیکھے گا وہ ڈرے گا یـا پھر ہنسے گا۔ اسی لیے رات بھر منہ چھپا کر سسکتی۔ عجب پریشانی کا عالم تھا۔(۳)

احمد جاوید کی اس کہانی ”تیسرا رنگ ” مـیں ایک خوف کا رنگ دکھایـا ہے اور ایک اطمـینان کا ۔مگر ایک تیسرا رنگ جس کی طرف افسانہ نگار نے بہت باریکی سے اشارہ کیـا ہے وہ ہے ”عورت کی محبت کا رنگ’۔گاؤں کی سادہ سی لڑکی محض اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے روز کا معمول بنا کر اس جھولتی ہوئی لکڑی کی پُل کو پار کرتی ہے مگر دوسری طرف ایک مرد ہے جو اس کاتیسرا رنگ دیکھ ہی نہیں پاتا۔”تتلی’ مـیں دم توڑتی معصومـیت کو معاشرے کی کجیوں کے ساتھ بیـان کیـا گیـا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک ایسی لڑکی ہے جس کی زندگی کی ابتدا ء اور انتہا ایک تتلی کی طرح دکھائی گئی ہے ۔جس کی قسمت مـیں پھولوں کے گرد منڈلانا ہے مگر جبی صیـاد کا شکار بن جائے تو اس کے سارے رنگی اور کی مٹھی مـیں رہ جاتے ہیں اور اپنی آخری سسکی لے کر ختم ہو جاتی ہے۔ کہانی کار لکھتا ہے کہ اس کا کوئی نام نہ تھا جس کے جی مـیں جو آتا اس کو اسی نام سے پکار لیتا۔مگربھلے ہی اسے تتلی کہے یـا جگنو مگر دونوں صورتوں مـیں وہ ایک عورت ہے بس یہی اس کا نام ہے۔
۔۔۔۔ اس کی ماں اس کا نام رکھنا بھول گئی تھی۔

جب وہ پیدا ہوئی تھی تو اس کے گھر کی چھت گر گئی۔ ایک بھائی تھا ملبے تلے دب کر ہلاک ہوا۔ گھر مـیں ہلاکت ہوئی تو کہرام مچ گیـا۔ مہینوںی کو سدھ بدھ ہی نہ رہی۔ بھلا ایسے مـیںے ہوش تھا۔اس کا نام رکھتا؟چونکہ اس کا کوئی نام نہیں تھا لہٰذا جس کا جو جی مـیں آتا پکار لیتا۔ ہر روز ایک نیـا نام ہوتا۔ سو وہ کہ جس کا کوئی نام نہیں تھا کتنے ہی اس کے نام ہو گئے۔ یہی نہیں بلکہ خود اس نے بھی اپنے کئی نام رکھ لیے۔ دن ہوتا تو خود کو تتلی کہتی۔ رات ہوتی تو جگنو۔۔۔۔جیسے اس کی کوئی گلی نہیں تھی اور اس کا نام نہیں تھا ایسے ہی اس کے سپرد کوئی کام بھی نہیں تھا۔ اس کی ماںی نہی کام سے اسے صدائیں دیتی رہتی مگر وہ طرح دے جاتی۔ اسے کاموں سے کیـا غرض تھی۔ ایک عمر مـیں تتلیوں اور جگنوئوں کے پیچھے بھاگتے پھرنے کے علاوہ بھی کوئی کام ہوا ہے؟(۴)
احمد جاوید کے افسانے معاشرتی مسائل کا تجزیہ ہی نہیں کرتے بلکہ ان پہلوؤں کا بھی کھوج لگاتے ہیں جن مـیں عورت کو بطور دان پیش کیـا جاتا ہے۔وہ کبھیی قتل کے بدلے ونی ہونے والی معصوم لڑکیـاں ہو تی ہیں اور کبھی بنجر دھرتی کو زرخیز کرنے کے لیے بلی دان چڑھا ئی جانے والی سہاگن۔ اس کہانی مـیں مذہب ،رواج اور خود غرضی کی بھینٹ چڑھنے والی ایک چھوٹی سی لڑکی کو بطور مرکزی کردار پیش کیـا گیـا ہے جسے رسموں کی چادر اوڑھا کر ایک انجانی دنیـا مـیں بھیج دیـا جاتا ہے۔مگر وہ اپنے خوابوں کے پیچھے بھٹک رہی ہے وہ ان جان تو یہ بھی نہیں جانتی کہ جل پریوں کا تو کوئی سمندر کنارہ مل جاتا ہے مگر عورت کے لیے بیچ منجدھار کا بھنور ہی رہ جاتا ہے، جو اسے بھی نگل لیتا ہے۔

”مگر شرط تو دو کی تھی…”

وہ مرد جو چھوٹی کا باپ تھا اس نے اپنی پگڑی اتار کر زمـین پر ایک طرف ڈال دی اور روہانسا ہو کر بولا ”سب جانتے ہیں مـیرے گھر مـیں ایک ہے۔ مـیں دوسری کہاں سے لائوں……”

”وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر شرط… پوری تو کرنی پڑے گی۔”ی دوسری طرف سے آواز آئی۔
”اب گھر مـیں مـیری بیوی ہے……” وہ غصے مـیں اب بھی نہیں تھا۔ لہجہ دھیما تھا اور آنکھیں جھکی تھیں…
”لاحول ولاقوۃ۔ ہم شریف لوگ ہیں۔ تیری بیـاہتا بیوی کا کیوں سوچیں گے……؟” ایک پیر مرد غصے مـیں بولا۔ وہ غصے مـیں بولا تو کچھ دیر کو سکوت ہو گیـا۔ مگر یہ سکوت زیـادہ دیر نہ رہا۔ پھری سمت سے آواز ابھری…
”ہمارا بڑا نقصان ہوا ہے۔ اگر دوسری نہیں ہے تو بدلے مـیں کچھ اور تو دینا ہو گا…”
”مگر……”

چھوٹی کا باپ اس پیر مرد سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا جو اُن مـیں سب سے زیـادہ معتبر اور بزرگ تھا۔ مگر وہ جو سب سے زیـادہ معتبر اور بزرگ تھا اس نے اسے آگے کچھ بولنے نہ دیـا۔ ”اوئے …… ہم کافر نہیں ہیں… مولوی ساتھ لائے ہیں۔ چل اوئے مولوی بسم اللہ کر۔ ہمـیں شام سے پہلے دریـا پار اترنا ہے…”(۵)

احمد جاوید کے افسانہ ”گمشدہ ستارے”مـیں ترقی پسند ی کی گونج بہت واضح ہے ۔جہاں آرٹ،عشق اور حسن سے ماوراء ایک ہی جبلت یعنی”بھوک”حاوی نظر آتی ہے۔دونوں مرکزی کرداروں کے ذریعے دو مختلف طبقوں کی ترجیحات کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں ایک شخص، حسن کے گم شدہ ستارے کینوس پر اتارنا چاہتا ہے مگر اس کے لیے الگ کیے گئے برتن کی تلاش جاری رہتی ہے ۔یہاں تک کہ اس کی پیـاس کو نظر انداز کرتے ہوئے کاغذ اٹھائے اس کے سامنے پہنچ جاتا ہے ۔مگر بھوک خود کو بھولنے نہیں دیتی وہ تو بقولے چاند اور سورج کی گولائی مـیں بھی روٹی کی تصویر دیکھ لیتی ہے۔یہاں بھی وہ ان لپٹے کاغذوں کو دیکھ کر تھیلا پھیلا دیتی ہے اوری گم نام سفر پر چل پڑتی ہے۔اس کہانی کا بنیـادی اور مرکزی خیـال ”بھوک” ہے جو حسن کے چمکتے ستاروں کو بھی مٹادیتی ہے۔
احمد جاوید نے نا صرف اپنے ارد گرد پھیلے دکھوں کو کہانی کا موضوع بنایـا ہے بلکہ وہ تاریخ کے ان تاریک ادوار کو بھی نہیں بھولے جن مـیں عورت توہمات کے نام پر قربان کی جاتی رہی۔ان کا افسانہ ”قصۂ غم کی ہیروئن”ایک عورت مـیں صدیوں کا سفر دکھا دیتا ہے جس مـیں وہ ملکہ سے لے کر کنیز تک بے بس اور لاچار ہے۔وہ کبھی انعام یـا بخشش بنا کر دی جاتی رہی تو کبھی بادشاہوں کے انتقام کا نشانہ۔یہ سارا سفر ماضی سے حال کی طرف جاری رہتا ہے اور کہانی ختم ہو جاتی ہے۔شائد کہانی ختم ہو جاتی ہے مگر عورت کا سفر جاری رہتا ہے۔

”دیکھ……اے پارسا عورت سامنے دیکھ…… ہمارے کھیت سوکھے پڑے ہیں……دیوتاؤں نے ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں……زمـین کی زرخیزی رخصت ہو گئی ہے…… دیکھ سامنے دیکھ……یہ مٹی دھول نہیں موت اڑ رہی ہے……اب تو ہی مدد کر سکتی ہے…”
اس نے سامنے دیکھا……مندر سے باہر دور تک پھیلے کھیتوں کےسوکھے تھے اورسوکھے تھے آسمان کے……مگر اس کے اختیـار مـیں کیـا تھا……؟اس نے حیرت سے پروہت کو دیکھا۔
”حیران نہ ہو……”پروہت اس کی آنکھوں مـیں چھپی حیرت سے مخاطب ہوا۔ یہی رسم ہے…اور یہی رواج ہے…عورت تو سب مـیں زیـادہ زرخیزہے …ہمارے کھیتوں کو زرخیزی عطا کر……”
”کون؟……مـیں؟……مگر کیسے”

”زمـین کوتیرا زرخیز خون چاہیے……اور تیرے اعضا ……تیرا سارا وجود……تجھی سے لہلہاتی فصلیں بھی جنم لیں گی……اس نےکھولنا چاہے مگر منظر بدل گیـا……کھیتوں کے درمـیان صلیب گڑی تھی……اسے بناؤ سنگھار کر کے دلہن بنا دیـا گیـا تھا مگری حجلہ عروسی کے لیے نہیں صلیب پر گاڑنے کے لیے ……ایک جلّاد اپنے کام کا منتظر تھا……اور منتظر تھا ایک ہجوم حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا……ہر کوئی اس کے جسم کی ایک بوٹی کا منتظر تھا اپنے کھیت کے لیے……اس کے بس مـیں اب کچھ بھی نہ تھا ماسوا اس کے کہ آنکھیں بند کر لے اور پھر سو جائے……(۶)

”خوابوں پہ تکیہ” مـیں بہت سادگی سے ایک ایسے احساس کی طرف اشارہ کیـا گیـا ہے جسے صرف حساس افسانہ نگار ہی گرفت مـیں لے سکتا تھا۔تکیہ کے لفظ کی ذومعنویت کو اجاگر کرتے ہوئے کہانی کار مرد کو تو اپنے خوابی صندوق مـیں بند کر کے سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے مگر عورت کے تکیے کے نیچے چھپےی خواب کی آہٹ بھی اس کے وجود کو بکھیرنے کے لیے کافی ہو تی ہے۔عورت کو اس کے لاشعور مـیں چھپے ان تمام خیـالات کو بھیی اندھے کنویں مـیں پھینکنا پرتا ہے جہاں سے ان کی بازگشت بھی سنائی نہ دے سکے۔

پہیلی ایک ایسی کہانی ہے جس کا آغاز ایک پہیلی کی طرح اور انجام بھی ایک ان بوجھی پہیلی کی طرح سامنے آتا ہے۔اس افسانے مـیں عورت کے مرد کو دیکھنے کے انداز، ایک مرد کے عورت کے طرز تکلم سے ہی اس کے کردار کو ماپنے کی کوشش کا سفر بڑی آسانی سے طے کیـا گیـا ہے۔ اس کہانی مـیں مردا نہ معاشرے کی اس کجی کی طرف اشارہ کیـا گیـا ہے کہ کیسے صرف ہنس کر بات کر لینے والی عورت کے ساتھ کئی خوش گمانیـاں جوڑ لی جاتی ہیں۔انہی خوش گمانیوں کا شکار اس کہانی کا مرکزی کردار اپنی ان بوجھی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے۔

احمد جاوید کا افسانوی مجموعہ ‘رات کی رانی’عورت کو فطرت کے رنگوں کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔وہ اس کی محبت کے رنگ بھی ہیں اور خوابوں کے بھی۔وہ کرداروں سے زیـادہ واقعات کو پیش کرتے ہیں جہاں سے کردار اپنے لیے مکالمے اور اگلا لائحہ عمل خود متعین کرتے جاتے ہیں۔

وہ نہ تو ببانگ دہلی تانیثی رو مـیں بہہ کر دنیـا مـیں ہر گناہ کو مرد کے سر تھوپ دیتے ہیں اور نہ ہی کہیں عورت کی ایسی دکھیـا بنا کر پیش کرتے ہیں جوی طاق مـیں رکھے دیے کی طرح گھُل رہی ہو۔ وہ اپنے ارد گرد جیتی جاگتی زندگی کو پیش کرتے ہیں جہاں کمزوریـاں اور کجیـاں دونوں موجود ہیں ۔وہ اپنے دور کے مسائل اور اس دور مـیں عورت کو درپیش مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے معاشرے کے دوہرے معیـارِ زندگی کی تصویر کشی کرتے ہیں۔یوں تو اردو افسانے مـیں سماجی حقیقت نگاری کا رنگ شاعری کی نسبت زیـادہ گہرا ہی رہا ہے مگر اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مرد عورت کے دکھ کو موضوع بنائے اور عورت اپنی ذات سے نکل کر سیـاسی ،سماجی اور عصری حقائق کو اپنی کہانیوں مـیں پیش کرے تاکہ معاشرہ اپنے بگڑے توازن کو بحال کر سکے ۔اس ضمن مـیں احمد جاوید کا افسانوی مجموعہ ”رات کی رانی” قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید ہے۔
ناشر: پورب اکادمـی ،اسلام آباد

٭٭٭٭
حوالہ جات

۱۔ احمد جاوید، بیر بہوٹی ” مشمولہ ”رات کی رانی”،پورب اکادمـی،اسلام آباد،جنوری ۰۱۴ ۲،ص ۱۵
۲ ۔ ایضاََ،” گالی ” ص۲۵
۳۔ ایضاََ، مورنی”ایضاََ ص ۵۹
۴۔ ایضاََ،”تتلی ” ص ۷۰۔۷۱
۵۔ ایضاََ،”جل پری” ص، ۸۵۔۸۶
۶۔ ایضاََ،”قصۂ غم کی ہیروئین” ص ۱۰۰۔۱۰۱

Related articles

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

. ی عورت کہانی . ی عورت کہانی




[رات کی رانی‘‘: عورت کے باطن کو موضوع بناتی کہانیـاں — aik ... ی عورت کہانی]

نویسنده و منبع: Rozan Postings | تاریخ انتشار: Sat, 04 Aug 2018 15:15:00 +0000



اردو شاعری انتظار

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن

ڈاکٹر ڈینس آئزک

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟

از، اردو شاعری انتظار سرفراز تبسُّم

ڈرامہ نگار ہو شاعر ہو موسیقار ہو یـا پھر ایک مصّور اُسے فن کی داد دینے والوں کی ضرورت رہتی ہی ہے اگر فن کار کے فن کو سراہا نہ جائے تو پہلے فن مرتا ہے پھر فنکار اور اگر خوش قسمتی سےی تخلیق کار کو مخلص پیـار کرنے والے چاہت والے لوگ مل جائیں تو تخلیق کار کی تخلیق یـافن پارہ بے مثال ہوجاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا ہفتہ بھر بے چینی سے انتظار کیـا کرتے تھے۔ 80ء کے آغاز مـیں ایک نام ڈرامہ رائٹر کے طور پر اُبھرا ان کا پہلا ڈرامہ سیریز   1982’دو راہ‘ کے نام سے ٹیلی وژن پشاور سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔ پھر سلسلہ وار ان کے مشہور ڈرامے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے گئے ان کے ڈراموں کی فہرست مـیں سلاخیں 1988، کرب، بارش 1990، 1992، اور پھر کچھ اقساط گیسٹ ہاؤس 1992 کے علاو ہ تھوڑی سی زندگی 1999، شامل رہے ہیں۔ جن کے خالق کا نام آج کہیں نظر نہیں آتا وہ نام ہے ڈاکٹر ڈینس آئزک کا جن کے لکھے ڈرامے ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں نشر ہوا کرتے تھے تو لوگ بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے ان کے لکھے ڈرامے اور فلمـیں دیکھا کرتے تھے۔

آغاز کے دنوں مـیں ہی انہوں نے شہرہ آفاق فرانسیسی ناول (Around the World in Eighty Days) کا اردو ترجمہ بھی کی۔ اسی دور مـیں ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں ایک فلم (انتہا 1999) بھی ریلیز ہوئی جو سپُرہٹ رہی۔ اسی فلم کے لیے انہیں بہترین سکرین پلے رائٹر نیشنل فلم فیئرایوارڈ سے نوازا گیـا۔

ایوارڈ ز کا باقاعدہ سلسلہ PTV ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1979 ڈرامہ سیریل سے شروع ہوا پھر ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1978 ڈرامہ سیریل ‘کرب‘، ہزارہ آرٹس کونسل ایوارڈ 1985، پاکستان کرسچین آرٹس کونسل ایوارڈ 1995، تاک کاشمـیری لٹریری ایوارڈ 1996، جوشوا فضل دین ایوارڈ 1996، PTV گولڈن جوبلی گولڈ مـیڈل 1997، بزمِ فانوس ایوار ڈکینیڈا 2010 سے نوازا  گیـا۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک 11 جنوری 1951 کو پاکستان کے شہر پشاور مـیں پیدا ہوئے۔ 1970 مـیں خیبر مـیڈیکل کالج سے انہوں نے گریجویشن کیـا۔ بعدازاں لیڈی ریڈنگ ہوسپٹل مـیں 25 سال بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں۔ پھر 2000 مـیں اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کر گئے۔

تاہم مـیرے لیے یہ بات باعثِ فخر ہے کہ 90 کی دھائی مـیں نئے لکھنے والوں کے لیے ایک پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ و کانفرنس منعقد ہوئی جس مـیں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع ملا اور یوں مجھے چند دن ڈاکٹر ڈینس آئزک کی قربت نصیب ہوئی۔ یـاد پڑتا ہے کہ مـیرا ان سے پہلا تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ہم لوگ ورکشاپ سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے اور کچھ ذمہ داریـاں بھی ہمـیں سونپ دی گئیں۔

اس دن اتنا کام کرنا پڑا کہ ہم جلدی ہی سو گئے اور پھر اگلی صبح مـیں اپنی عادت کے مطابق علی الصبح ہی اُٹھ گیـا۔ نہا دھو کر مـیں ایک ادبی رسالہ اُٹھائے باہر نکل گیـا اور ہوٹل کی راہ داری کے ساتھ لگی سیڑھیوں پر بیٹھ گیـا اور (ادبی جریدہ تسطیر) کی ورق گردانی کرنے لگا کہ اچانک مـیرے دوسری جانب ایک گاڑی رکنے کی آواز آئی جس مـیں سے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب نمودار ہوئے۔

ایک شخص ان کا سامان پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔ مـیرے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے مـیری طرف دیکھ کرHello کہا اور ہلکا سا مسکرائے۔ اچانک ان کی نظر مـیرے ہاتھ مـیں پکڑے جریدہ تسطیرپر پڑی توپوچھنے لگے ’کیـایہ تسطیر کا نیـا شمارہ ہے؟‘، مـیں نے کہا جی سر۔ یہ سن کر انہوں نے مثبت انداز مـیں سر ہلایـا اور پروگرام مـیں ملنے کا کہہ کر چلے گئے۔

اس ورکشاپ مـیں کوئی 40/50 نئے لکھنے والے شامل رہے ہوں گے۔ مگر اس وقت سب سے زیـادہ مـیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ فارغ وقت گزارتاتھا۔

ہم ہر شام فارغ ہوکر ہوٹل کیساتھ ایک جھیل کے کنارے لگے بنچوں پر بیٹھ جاتے اور دیر تک باتیں کرتے۔ مجھے آج بھی ان کے سنائے لطیفے خاص طور پر یـاد ہیں کچھ لطائف مـیں تو مـیڈیم نورجہاں اور جگجیت سنگھ کا بھی ذکر بھی ہوا کرتا تھا۔ اسی دوران مجھے ڈاکٹر صاحب کی دیگر خصوصیـات کا بھی علم ہوا کہ وہ جتنے اچھے ڈرامہ نگار ہیں اتنے ہی باکمال شاعر، مصّور، اور موسیقارو گائیک بھی ہیں۔ اسی ورکشاپ کے دوران انہوں نے اپنی شاعری اپنی کمپوزیشن مـیں گیت اور غزلیں بھی گائیں۔ ان کے اتنے روپ دیکھ کرمجھے دیر تک واقعی حیرت ہوتی رہی۔

سپین مـیں ایک ڈیڑھ دھائی رہنے کے بعد آج کل مـیں انگلینڈ کے شہر لیسٹر مـیں مقیم ہوں، اس سال مـیں نے جناب نذیر قیصر (ہمارے عہد کے باکمال شاعر دانشور و فلاسفر) کے ساتھ ایک شام منانے کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیـا تو ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کاخیـال آیـا۔

مـیں نے ان کی تلاش شروع کی تو دو دن مـیں نے کئی فون کیے انٹرنیٹ پران کی تلاش کی مگرکہیں سے ان کوئی پتا نہ ملا۔ مجھے بہت حیرت ہونے لگی پھر مجھے اچانک ان کے ایک قریبی دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل (جو عرصہ درازسے کینیڈ امـیں مقیم ہیں) کا فون نمبر مل گیـا۔ مـیں نے ان کے نمبرپر بے شمار کال کیں، مـیسج بھی چھوڑا۔ مگر بات نہ ہوسکی اگلے روز مـیں نے پھر کوشش کی تو مـیری ڈاکٹر خالد سہیل سے بات ہوگئی تو مـیں نے عرض کیـا کہ جی سر مجھے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کا کوئی رابطہ نمبر مل سکتا ہے، مـیں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں تو ڈاکٹر خالد سہیل مجھے پوچھنے لگے ’آپبول رہے ہیں تومـیں نے عرض کیـاجی مـیں ان کا ایک چھوٹا سا عقید ت مند سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔

وہ فرمانے لگے مدت ہوئی مـیری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جن دنوں وہ نئے نئے کینیڈا آئے تھے تو ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اب بہت وقت ہوا ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم مـیں ان کا ایک پرانا نمبر جو مـیرے پاس ہے آپ کو دے دیتا ہوں۔‘

مـیں نے وہ نمبر نوٹ کیـا اور دوسری کال ان کے دیے نمبر پر کی تیسری گھنٹی پر فون اٹھا لیـا گیـا توگفتگو کچھ اس طرح ہوئی:

جی، (Good Evening) مـیں سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک چاہنے والا کیـا مـیں ان سے بات کرسکتا ہوں؟

فون پر ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کی اہلیہ ماریہ آئزک گویـا ہوئیں: اردو شاعری انتظار سوری ڈاکٹر صاحب سو رہے ہیں، وہ آپ سے بات نہیں کرسکتے۔

مـیں نے پوچھا جی مـیں وقت فون کروں کہ مـیری ان سے بات ہوسکے تو مـیڈم کہنے لگیں کہ ڈاکٹر صاحب بات کرنے کی پوزیشن مـیں نہیں۔ وہی سے بات نہیں کرتے۔ تو مـیں نے استفسار کیـا تو انہوں کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوچار سال پہلے (dementia) ہوگیـا اور وہ ذہنی طور پر آسودہ نہیں رہے، و ہ سب بھول گئے ہیں۔ انہیں اپنےی دوست کی کوئی پہچان نہیں رہی۔

اس گفتگو کے بعد مـیں سکتہ مـیں آگیـا اور دیر تک ماضی کے جھروکوں مـیں خیـالی تصویریں بنتا رہا۔ اس کے بعد ایک ہفتہ تک اداس و پریشان رہا اور سوچتا رہا کہ آخرایسا کیوں ہوا۔۔۔؟

Related articles

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

. اردو شاعری انتظار . اردو شاعری انتظار




[ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن اردو شاعری انتظار]

نویسنده و منبع: Rozan Postings | تاریخ انتشار: Mon, 03 Sep 2018 19:47:00 +0000



بیگ داد کام

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن

ڈاکٹر ڈینس آئزک

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟

از، بیگ داد کام سرفراز تبسُّم

ڈرامہ نگار ہو شاعر ہو موسیقار ہو یـا پھر ایک مصّور اُسے فن کی داد دینے والوں کی ضرورت رہتی ہی ہے اگر فن کار کے فن کو سراہا نہ جائے تو پہلے فن مرتا ہے پھر فنکار اور اگر خوش قسمتی سےی تخلیق کار کو مخلص پیـار کرنے والے چاہت والے لوگ مل جائیں تو تخلیق کار کی تخلیق یـافن پارہ بے مثال ہوجاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا ہفتہ بھر بے چینی سے انتظار کیـا کرتے تھے۔ 80ء کے آغاز مـیں ایک نام ڈرامہ رائٹر کے طور پر اُبھرا ان کا پہلا ڈرامہ سیریز   1982’دو راہ‘ کے نام سے ٹیلی وژن پشاور سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔ پھر سلسلہ وار ان کے مشہور ڈرامے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے گئے ان کے ڈراموں کی فہرست مـیں سلاخیں 1988، کرب، بارش 1990، 1992، اور پھر کچھ اقساط گیسٹ ہاؤس 1992 کے علاو ہ تھوڑی سی زندگی 1999، شامل رہے ہیں۔ جن کے خالق کا نام آج کہیں نظر نہیں آتا وہ نام ہے ڈاکٹر ڈینس آئزک کا جن کے لکھے ڈرامے ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں نشر ہوا کرتے تھے تو لوگ بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے ان کے لکھے ڈرامے اور فلمـیں دیکھا کرتے تھے۔

آغاز کے دنوں مـیں ہی انہوں نے شہرہ آفاق فرانسیسی ناول (Around the World in Eighty Days) کا اردو ترجمہ بھی کی۔ اسی دور مـیں ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں ایک فلم (انتہا 1999) بھی ریلیز ہوئی جو سپُرہٹ رہی۔ اسی فلم کے لیے انہیں بہترین سکرین پلے رائٹر نیشنل فلم فیئرایوارڈ سے نوازا گیـا۔

ایوارڈ ز کا باقاعدہ سلسلہ PTV ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1979 ڈرامہ سیریل سے شروع ہوا پھر ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1978 ڈرامہ سیریل ‘کرب‘، ہزارہ آرٹس کونسل ایوارڈ 1985، پاکستان کرسچین آرٹس کونسل ایوارڈ 1995، تاک کاشمـیری لٹریری ایوارڈ 1996، جوشوا فضل دین ایوارڈ 1996، PTV گولڈن جوبلی گولڈ مـیڈل 1997، بزمِ فانوس ایوار ڈکینیڈا 2010 سے نوازا  گیـا۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک 11 جنوری 1951 کو پاکستان کے شہر پشاور مـیں پیدا ہوئے۔ 1970 مـیں خیبر مـیڈیکل کالج سے انہوں نے گریجویشن کیـا۔ بعدازاں لیڈی ریڈنگ ہوسپٹل مـیں 25 سال بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں۔ پھر 2000 مـیں اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کر گئے۔

تاہم مـیرے لیے یہ بات باعثِ فخر ہے کہ 90 کی دھائی مـیں نئے لکھنے والوں کے لیے ایک پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ و کانفرنس منعقد ہوئی جس مـیں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع ملا اور یوں مجھے چند دن ڈاکٹر ڈینس آئزک کی قربت نصیب ہوئی۔ یـاد پڑتا ہے کہ مـیرا ان سے پہلا تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ہم لوگ ورکشاپ سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے اور کچھ ذمہ داریـاں بھی ہمـیں سونپ دی گئیں۔

اس دن اتنا کام کرنا پڑا کہ ہم جلدی ہی سو گئے اور پھر اگلی صبح مـیں اپنی عادت کے مطابق علی الصبح ہی اُٹھ گیـا۔ نہا دھو کر مـیں ایک ادبی رسالہ اُٹھائے باہر نکل گیـا اور ہوٹل کی راہ داری کے ساتھ لگی سیڑھیوں پر بیٹھ گیـا اور (ادبی جریدہ تسطیر) کی ورق گردانی کرنے لگا کہ اچانک مـیرے دوسری جانب ایک گاڑی رکنے کی آواز آئی جس مـیں سے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب نمودار ہوئے۔

ایک شخص ان کا سامان پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔ مـیرے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے مـیری طرف دیکھ کرHello کہا اور ہلکا سا مسکرائے۔ اچانک ان کی نظر مـیرے ہاتھ مـیں پکڑے جریدہ تسطیرپر پڑی توپوچھنے لگے ’کیـایہ تسطیر کا نیـا شمارہ ہے؟‘، مـیں نے کہا جی سر۔ یہ سن کر انہوں نے مثبت انداز مـیں سر ہلایـا اور پروگرام مـیں ملنے کا کہہ کر چلے گئے۔

اس ورکشاپ مـیں کوئی 40/50 نئے لکھنے والے شامل رہے ہوں گے۔ مگر اس وقت سب سے زیـادہ مـیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ فارغ وقت گزارتاتھا۔

ہم ہر شام فارغ ہوکر ہوٹل کیساتھ ایک جھیل کے کنارے لگے بنچوں پر بیٹھ جاتے اور دیر تک باتیں کرتے۔ مجھے آج بھی ان کے سنائے لطیفے خاص طور پر یـاد ہیں کچھ لطائف مـیں تو مـیڈیم نورجہاں اور جگجیت سنگھ کا بھی ذکر بھی ہوا کرتا تھا۔ اسی دوران مجھے ڈاکٹر صاحب کی دیگر خصوصیـات کا بھی علم ہوا کہ وہ جتنے اچھے ڈرامہ نگار ہیں اتنے ہی باکمال شاعر، مصّور، اور موسیقارو گائیک بھی ہیں۔ اسی ورکشاپ کے دوران انہوں نے اپنی شاعری اپنی کمپوزیشن مـیں گیت اور غزلیں بھی گائیں۔ ان کے اتنے روپ دیکھ کرمجھے دیر تک واقعی حیرت ہوتی رہی۔

سپین مـیں ایک ڈیڑھ دھائی رہنے کے بعد آج کل مـیں انگلینڈ کے شہر لیسٹر مـیں مقیم ہوں، اس سال مـیں نے جناب نذیر قیصر (ہمارے عہد کے باکمال شاعر دانشور و فلاسفر) کے ساتھ ایک شام منانے کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیـا تو ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کاخیـال آیـا۔

مـیں نے ان کی تلاش شروع کی تو دو دن مـیں نے کئی فون کیے انٹرنیٹ پران کی تلاش کی مگرکہیں سے ان کوئی پتا نہ ملا۔ مجھے بہت حیرت ہونے لگی پھر مجھے اچانک ان کے ایک قریبی دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل (جو عرصہ درازسے کینیڈ امـیں مقیم ہیں) کا فون نمبر مل گیـا۔ مـیں نے ان کے نمبرپر بے شمار کال کیں، مـیسج بھی چھوڑا۔ مگر بات نہ ہوسکی اگلے روز مـیں نے پھر کوشش کی تو مـیری ڈاکٹر خالد سہیل سے بات ہوگئی تو مـیں نے عرض کیـا کہ جی سر مجھے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کا کوئی رابطہ نمبر مل سکتا ہے، مـیں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں تو ڈاکٹر خالد سہیل مجھے پوچھنے لگے ’آپبول رہے ہیں تومـیں نے عرض کیـاجی مـیں ان کا ایک چھوٹا سا عقید ت مند سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔

وہ فرمانے لگے مدت ہوئی مـیری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جن دنوں وہ نئے نئے کینیڈا آئے تھے تو ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اب بہت وقت ہوا ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم مـیں ان کا ایک پرانا نمبر جو مـیرے پاس ہے آپ کو دے دیتا ہوں۔‘

مـیں نے وہ نمبر نوٹ کیـا اور دوسری کال ان کے دیے نمبر پر کی تیسری گھنٹی پر فون اٹھا لیـا گیـا توگفتگو کچھ اس طرح ہوئی:

جی، (Good Evening) مـیں سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک چاہنے والا کیـا مـیں ان سے بات کرسکتا ہوں؟

فون پر ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کی اہلیہ ماریہ آئزک گویـا ہوئیں: بیگ داد کام سوری ڈاکٹر صاحب سو رہے ہیں، وہ آپ سے بات نہیں کرسکتے۔

مـیں نے پوچھا جی مـیں وقت فون کروں کہ مـیری ان سے بات ہوسکے تو مـیڈم کہنے لگیں کہ ڈاکٹر صاحب بات کرنے کی پوزیشن مـیں نہیں۔ وہی سے بات نہیں کرتے۔ تو مـیں نے استفسار کیـا تو انہوں کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوچار سال پہلے (dementia) ہوگیـا اور وہ ذہنی طور پر آسودہ نہیں رہے، و ہ سب بھول گئے ہیں۔ انہیں اپنےی دوست کی کوئی پہچان نہیں رہی۔

اس گفتگو کے بعد مـیں سکتہ مـیں آگیـا اور دیر تک ماضی کے جھروکوں مـیں خیـالی تصویریں بنتا رہا۔ اس کے بعد ایک ہفتہ تک اداس و پریشان رہا اور سوچتا رہا کہ آخرایسا کیوں ہوا۔۔۔؟

Related articles

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

. بیگ داد کام . بیگ داد کام




[ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن بیگ داد کام]

نویسنده و منبع: Rozan Postings | تاریخ انتشار: Mon, 03 Sep 2018 19:47:00 +0000



بیگ داد کام

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن

ڈاکٹر ڈینس آئزک */ ]]>

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟

از، بیگ داد کام سرفراز تبسُّم

ڈرامہ نگار ہو شاعر ہو موسیقار ہو یـا پھر ایک مصّور اُسے فن کی داد دینے والوں کی ضرورت رہتی ہی ہے اگر فن کار کے فن کو سراہا نہ جائے تو پہلے فن مرتا ہے پھر فنکار اور اگر خوش قسمتی سےی تخلیق کار کو مخلص پیـار کرنے والے چاہت والے لوگ مل جائیں تو تخلیق کار کی تخلیق یـافن پارہ بے مثال ہوجاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا ہفتہ بھر بے چینی سے انتظار کیـا کرتے تھے۔ 80ء کے آغاز مـیں ایک نام ڈرامہ رائٹر کے طور پر اُبھرا ان کا پہلا ڈرامہ سیریز   1982’دو راہ‘ کے نام سے ٹیلی وژن پشاور سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔ پھر سلسلہ وار ان کے مشہور ڈرامے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے گئے ان کے ڈراموں کی فہرست مـیں سلاخیں 1988، کرب، بارش 1990، 1992، اور پھر کچھ اقساط گیسٹ ہاؤس 1992 کے علاو ہ تھوڑی سی زندگی 1999، شامل رہے ہیں۔ جن کے خالق کا نام آج کہیں نظر نہیں آتا وہ نام ہے ڈاکٹر ڈینس آئزک کا جن کے لکھے ڈرامے ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں نشر ہوا کرتے تھے تو لوگ بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے ان کے لکھے ڈرامے اور فلمـیں دیکھا کرتے تھے۔

آغاز کے دنوں مـیں ہی انہوں نے شہرہ آفاق فرانسیسی ناول (Around the World in Eighty Days) کا اردو ترجمہ بھی کی۔ اسی دور مـیں ثمـینہ پیرزادہ کی پروڈکشن مـیں ایک فلم (انتہا 1999) بھی ریلیز ہوئی جو سپُرہٹ رہی۔ اسی فلم کے لیے انہیں بہترین سکرین پلے رائٹر نیشنل فلم فیئرایوارڈ سے نوازا گیـا۔

ایوارڈ ز کا باقاعدہ سلسلہ PTV ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1979 ڈرامہ سیریل سے شروع ہوا پھر ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی 1978 ڈرامہ سیریل ‘کرب‘، ہزارہ آرٹس کونسل ایوارڈ 1985، پاکستان کرسچین آرٹس کونسل ایوارڈ 1995، تاک کاشمـیری لٹریری ایوارڈ 1996، جوشوا فضل دین ایوارڈ 1996، PTV گولڈن جوبلی گولڈ مـیڈل 1997، بزمِ فانوس ایوار ڈکینیڈا 2010 سے نوازا  گیـا۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک 11 جنوری 1951 کو پاکستان کے شہر پشاور مـیں پیدا ہوئے۔ 1970 مـیں خیبر مـیڈیکل کالج سے انہوں نے گریجویشن کیـا۔ بعدازاں لیڈی ریڈنگ ہوسپٹل مـیں 25 سال بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں۔ پھر 2000 مـیں اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کر گئے۔

تاہم مـیرے لیے یہ بات باعثِ فخر ہے کہ 90 کی دھائی مـیں نئے لکھنے والوں کے لیے ایک پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ و کانفرنس منعقد ہوئی جس مـیں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع ملا اور یوں مجھے چند دن ڈاکٹر ڈینس آئزک کی قربت نصیب ہوئی۔ یـاد پڑتا ہے کہ مـیرا ان سے پہلا تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ہم لوگ ورکشاپ سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے اور کچھ ذمہ داریـاں بھی ہمـیں سونپ دی گئیں۔

اس دن اتنا کام کرنا پڑا کہ ہم جلدی ہی سو گئے اور پھر اگلی صبح مـیں اپنی عادت کے مطابق علی الصبح ہی اُٹھ گیـا۔ نہا دھو کر مـیں ایک ادبی رسالہ اُٹھائے باہر نکل گیـا اور ہوٹل کی راہ داری کے ساتھ لگی سیڑھیوں پر بیٹھ گیـا اور (ادبی جریدہ تسطیر) کی ورق گردانی کرنے لگا کہ اچانک مـیرے دوسری جانب ایک گاڑی رکنے کی آواز آئی جس مـیں سے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب نمودار ہوئے۔

ایک شخص ان کا سامان پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔ مـیرے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے مـیری طرف دیکھ کرHello کہا اور ہلکا سا مسکرائے۔ اچانک ان کی نظر مـیرے ہاتھ مـیں پکڑے جریدہ تسطیرپر پڑی توپوچھنے لگے ’کیـایہ تسطیر کا نیـا شمارہ ہے؟‘، مـیں نے کہا جی سر۔ یہ سن کر انہوں نے مثبت انداز مـیں سر ہلایـا اور پروگرام مـیں ملنے کا کہہ کر چلے گئے۔

اس ورکشاپ مـیں کوئی 40/50 نئے لکھنے والے شامل رہے ہوں گے۔ مگر اس وقت سب سے زیـادہ مـیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ فارغ وقت گزارتاتھا۔

ہم ہر شام فارغ ہوکر ہوٹل کیساتھ ایک جھیل کے کنارے لگے بنچوں پر بیٹھ جاتے اور دیر تک باتیں کرتے۔ مجھے آج بھی ان کے سنائے لطیفے خاص طور پر یـاد ہیں کچھ لطائف مـیں تو مـیڈیم نورجہاں اور جگجیت سنگھ کا بھی ذکر بھی ہوا کرتا تھا۔ اسی دوران مجھے ڈاکٹر صاحب کی دیگر خصوصیـات کا بھی علم ہوا کہ وہ جتنے اچھے ڈرامہ نگار ہیں اتنے ہی باکمال شاعر، مصّور، اور موسیقارو گائیک بھی ہیں۔ اسی ورکشاپ کے دوران انہوں نے اپنی شاعری اپنی کمپوزیشن مـیں گیت اور غزلیں بھی گائیں۔ ان کے اتنے روپ دیکھ کرمجھے دیر تک واقعی حیرت ہوتی رہی۔

سپین مـیں ایک ڈیڑھ دھائی رہنے کے بعد آج کل مـیں انگلینڈ کے شہر لیسٹر مـیں مقیم ہوں، اس سال مـیں نے جناب نذیر قیصر (ہمارے عہد کے باکمال شاعر دانشور و فلاسفر) کے ساتھ ایک شام منانے کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیـا تو ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کاخیـال آیـا۔

مـیں نے ان کی تلاش شروع کی تو دو دن مـیں نے کئی فون کیے انٹرنیٹ پران کی تلاش کی مگرکہیں سے ان کوئی پتا نہ ملا۔ مجھے بہت حیرت ہونے لگی پھر مجھے اچانک ان کے ایک قریبی دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل (جو عرصہ درازسے کینیڈ امـیں مقیم ہیں) کا فون نمبر مل گیـا۔ مـیں نے ان کے نمبرپر بے شمار کال کیں، مـیسج بھی چھوڑا۔ مگر بات نہ ہوسکی اگلے روز مـیں نے پھر کوشش کی تو مـیری ڈاکٹر خالد سہیل سے بات ہوگئی تو مـیں نے عرض کیـا کہ جی سر مجھے ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کا کوئی رابطہ نمبر مل سکتا ہے، مـیں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں تو ڈاکٹر خالد سہیل مجھے پوچھنے لگے ’آپبول رہے ہیں تومـیں نے عرض کیـاجی مـیں ان کا ایک چھوٹا سا عقید ت مند سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔

وہ فرمانے لگے مدت ہوئی مـیری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جن دنوں وہ نئے نئے کینیڈا آئے تھے تو ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اب بہت وقت ہوا ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم مـیں ان کا ایک پرانا نمبر جو مـیرے پاس ہے آپ کو دے دیتا ہوں۔‘

مـیں نے وہ نمبر نوٹ کیـا اور دوسری کال ان کے دیے نمبر پر کی تیسری گھنٹی پر فون اٹھا لیـا گیـا توگفتگو کچھ اس طرح ہوئی:

جی، (Good Evening) مـیں سرفراز تبسم انگلینڈ سے عرض کررہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک چاہنے والا کیـا مـیں ان سے بات کرسکتا ہوں؟

فون پر ڈاکٹر ڈینس آئزک صاحب کی اہلیہ ماریہ آئزک گویـا ہوئیں: بیگ داد کام سوری ڈاکٹر صاحب سو رہے ہیں، وہ آپ سے بات نہیں کرسکتے۔

مـیں نے پوچھا جی مـیں وقت فون کروں کہ مـیری ان سے بات ہوسکے تو مـیڈم کہنے لگیں کہ ڈاکٹر صاحب بات کرنے کی پوزیشن مـیں نہیں۔ وہی سے بات نہیں کرتے۔ تو مـیں نے استفسار کیـا تو انہوں کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوچار سال پہلے (dementia) ہوگیـا اور وہ ذہنی طور پر آسودہ نہیں رہے، و ہ سب بھول گئے ہیں۔ انہیں اپنےی دوست کی کوئی پہچان نہیں رہی۔

اس گفتگو کے بعد مـیں سکتہ مـیں آگیـا اور دیر تک ماضی کے جھروکوں مـیں خیـالی تصویریں بنتا رہا۔ اس کے بعد ایک ہفتہ تک اداس و پریشان رہا اور سوچتا رہا کہ آخرایسا کیوں ہوا۔۔۔؟

Related articles

. بیگ داد کام . بیگ داد کام




[ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں۔۔۔؟ — aik Rozan ایک روزن بیگ داد کام]

نویسنده و منبع: Rozan Postings | تاریخ انتشار: Fri, 21 Sep 2018 22:46:00 +0000



گرم بہن بھائی

رمضانی کہانچیـاں : مائیکرو فکشن — aik Rozan ایک روزن

شکور رافع، گرم بہن بھائی صاحب مضمون

رمضانی کہانچیـاں : گرم بہن بھائی مائیکرو فکشن

 از شکور رافع

کہانچی نمبر۔1

درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایـا

ہر سال وہ اپنے کشادہ آنگن مـیں تیس افطاریوں کا اہتمام کرتے ۔ ساتوں ملازم روزانہ سو ڈیڑھ سو افراد کی’ افطارتیـاری‘ مـیں جتے رہتے۔

اس شام ان کا ایک اشتراکی دوست دالان مـیں آبیٹھا تھا اور خیراتی کلچر پہ مسلسل طنز کر رہا تھا۔

وہ چیخ اٹھے ’ یـار ! بھیک تب ہوتی جب خیراتی اشتہارلگواتا۔ چند گلیـاں پیچھے تنگ آبادی مـیں فیکٹری مزدوراور دیہاڑی دار کرائے پہ رہتے ہیں۔

یہ سب بڑی عزت سے آتے ہیں۔ وہ دیکھو! وہ بابا جو دکھائی دے رہا ہے ،یہ دن بھر جوتے گانٹھتا ہے اور یقین کرو سال بھر اس کے ہاتھ مـیں نوالہ نہیں دیکھا، گانٹھتا آلہ ہی دیکھا ہے۔ مـیں اس کے ساتھ بیٹھ کر جب سیخ کباب اس کی پلیٹ مـیں ڈالتا ہوں تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔

اور وہ بچہ دیکھو جو اپنا پیـالہ آئس کریم سے لبالب بھرنے کے بعد نیچے گرا رہا ہے۔۔ اسے زندگی مـیں پہلی بار آئس کریم کا یہ رنگ ذائقہ عجیب لگ رہا ہے۔ بتاؤ، اگر چہروں پر یہ مسکراہٹیں رمضان کے بہانے ہی سے سہی، آ جائیں تو کیـا مضائقہ ہے۔

دوست خاموش ہو گیـا۔ توقف سے بولا

’مگر مہینے بھر کے لیے چہروں پرعارضی مسکراہٹ کے بجائے اگر مستقل کام روزگار مل جائے تو۔۔۔‘

’مـیں سالانہ آٹھ دس لاکھ نکال سکتا ہوں۔بولو، اب اس مـیں کتنے افراد کومستقل روزگار مل سکتا ہے‘۔

’صرف آٹھ دس لاکھ ہی کیوں؟‘دوست نے سیخ ٹٹولتے ہوئے کہا

’بینک منیجر کے مطابق پانچ کروڑ پر اتنی ہی زکواة بنتی ہے۔ کل دو فیکٹریـاں تورہ گئیں یـار۔‘

دوست نے سیخ کباب کی پلیٹ نیچے رکھ دی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔2

ماضاءاللہ

مہینے بھر کے تقدیسی اسلوب و بیـاں مـیں عربی تہذیب گھلنا شروع ہوئی تو ’رمضان‘ کو ’ رامادان‘ کہا جانے لگا۔ ایسے ہی، ’ والضالین ‘ سے ’قضائے الہی‘ تک، بعض جذباتیوںنے’ ض‘ کو مستقلاً ’د‘ کی آواز ہی دے ڈالی۔ اسی مشق مـیں ایک نوجوان کودو تھپڑوںکی آزمائش سے تب گزرنا پڑا کہ جب اس کے طالبعلم ساتھی نے پوچھا : ’روزہ رکھا ہے؟‘

اور اس نے جواباً عربی صوتیـات مـیں کہا ’ماداللہ، مـیں روزہ کیوں چھوڑوں گا؟‘

لڑکے نے تھپڑ لگا کرکہا۔ ’ابے ! مجھے ’ماں دلا‘ کی گالی کیوں دے رہا ہے‘

ایک حافظ صاحب نے فوراًوضاحتی بیچ بچاؤ کروایـا کہ ’ماذءاللہ‘ کو ’ماضاءاللہ‘ کہنا پڑھنا غلط ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔3

 ربنا آتنا فی الدنیـا حسنتہ و فی الآخرہ

افسر نماز پڑھ کے آیـا تو سراپا تسبیح تھا۔ موزے پہنتے ہوئے چپڑاسی سے کہا

’جاؤ بھئی نماز پڑھ کے آؤ، اس مہینے مـیں توآخرت بہت سستی ہو جاتی ہے۔‘

’جی۔ اور دنیـا بہت مہنگی۔۔ ‘ چپڑاسی مسکراتا ہواباہر نکل گیـا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔4

احترام لباس اور تنگ بھوک پیـاس

لڑکا یونیورسٹی مـیں اپنی دوست سے : ’یـار تم اتنی تنگ قمـیضیں نہ پہنا کرو، ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں‘

لڑکی :’ تو تم اپنے جذبات قابو کرو نا، مـیرا لباس نہیں۔‘

لڑکے نے لاجوابیت محسوس کی تو ہنس کر موضوع بدلنے لگا۔ اچانک لائبریری کے بائیں کونے سے شور اٹھا۔

پرانی الماریوں والے کونے مـیں بوتل اٹھائے لڑکے کو دو طالب علموں نے گھیر رکھا تھا۔

’ ہمارے سامنے کولڈ ڈرنک پی رہے ہو۔۔‘  ’ شرم آنی چاہیے۔۔ سرعام رمضان کا احترام مجروح کر رہے ہو‘

لڑکے نے اعتماد سے کہا: ’آپ اپنے جذبات قابو کریں نا، مـیری خوراک نہیں۔۔۔ بیمار ہوں مـیں!‘

’اوئے سرعام توہین، اوپر سے جگتیں۔ حافظ جی ادھر آنا ذرا!‘

دو تین کا ٹولہ چار پانچ تک ہی پہنچا تھا کہ’ باغی بیمار‘ بوتل پھینک کے بھاگ گیـا۔

جمع ہونے والوں مـیں جذبات قابو کرنے کا درس دینے والی وہ ’تنگ قمـیض دوشیزہ‘ بھی شامل تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔5

وہ طیش مـیں کرتے ہیں سوالات مسلسل  ہم دیتے ہیں چپ سے جوابات مسلسل

کمرہ جماعت مـیں ادب کا استاد منافقت اور دکھلاوے پہ لیکچر دے رہا تھا۔ایک نوعمر جذباتی طالبعلم کو شہ ملی۔

’سرمجھے بھی یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے مقدس مہینہ مـیں ،ہم ہر سال باقاعدگی سے، یہ پانچ جرائم کیوں کرتے ہیں؟‘

استاد سے پہلے طالبعلموں نے پوچھا : ’کون سے پانچ جرائم ؟‘

طالبعلم: جی نمبر۱۔ جرائم کی شرح مـیں یک مشت اضافہ ۔۔۔۔ نمبر۲۔ معمولات زندگی بالخصوص فرائض منصبی مـیں انتہائی کاہلی ۳۔ پیشہ ور بھکاریوں اور نکمے نکھٹووں کی بھرپور حوصلہ افزائی ،، نمبر4 .ذخیرہ اندوزی و مہنگائی سے غریب گھرانوں مـیں صف محرومـی.. گرم بہن بھائی اور نمبر ۵ ۔ لڑائی جھگڑوں مـیں اضافہ۔

سر مـیرا سوال یہ ہے کہ ستر سالوں سے ماہ رمضان کی پریکٹس ہمـیں ایک اچھا مسلمان اورایک دیـانت دار پاکستانی کیوں نہیں بنا پائی؟

استاد خاموشی سے کتاب کھولتے ہوئے بڑبڑایـا ’مجھے لگتا ہے کہ ہم انتہائی کاہلی سے نصاب مکمل کررہے ہیں۔ نکالیے صفحہ نمبر چھ۔۔۔‘

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔6

بزرگوں کی روایت ہے

روزہ مـیں شکور صاحب اور ان کا خاندان کچھ زیـادہ ہی مذہبی ہو جاتا ہے۔

انواع و اقسام کے پکوان ہونے کے باوجود ساتویں افطاری بھی کھجور سے ہوئی توچودہ سالہ بیٹے نے کھجور مـیں اٹکنے کی وجہ پوچھی۔

بابا بولے : ’یہ ہمارے بزرگوں کی روایت ہے۔‘

بعد از افطار تراویح پہ جاتے ہوئے چودہ سالہ پھر بولا : ’بابا۔اتنی بوجھل طبعیت مـیں تراویح ضروری ہے؟‘

بابا بولے : ’بیٹا، یہ ہمارے بزرگوں کی روایت ہے‘

خیر۔ لڑکا نیم شب بیداری مـیں ، رات ڈیڑھ بجے ہی’ سحری‘ کھا کے سونا چاہ رہا تھا کہ ابا نے اٹھا دیـا۔

’یہ ہمارے بزرگوں کی روایت ہے کہ روزہ کی نیت سحری کے وقت ہی کی جائے‘

اچانک پنکھا بتی بند ہو گئے ۔ ابا نے غصے مـیں لڑکے کے ساتھ بجلی والوں کو بھی کوسنا شروع کردیـا۔

لڑکے نے موندتی آنکھوں سے اتنا پوچھا: .”ابا۔ ہمارے بزرگوں کی روایت مـیں کیـا بجلی پنکھا لائٹ بھی شامل تھی؟‘

چھوٹی بہن کی ہنسی اتنی گونجی کہ ابا کا یک لفظی جواب ’بے غیرت‘ قہقہے مـیں کہیں گم ہو گیـا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔7

نیلی کڑھائی والا کرتا

رمضان کا پہلا عشرہ گزرتے ہی چوکوں چوراہوں پر عید ملبوسات و لوازمات کی نمائش شروع ہو گئی۔

چوراہے پر کھمبے تلے ٹھیلے والے نے بھی بچوں کے چند جوڑے لٹکالیے۔ مومـی جاموں مـیں چمکتے رنگین کپڑے آتے جاتے غریب راہگیروں کی توجہ لیتے مگر خریداری مـیں دلچسپی ابھی کم تھی ۔

ایک پٹھان بچہ ، البتہ، روزانہ شام اپنے قد سے بڑا تھیلا اٹھائے وہاں آن رکتا اور کھمبے سے لٹکتا نیلی کڑھائی والا کرتا پاجامہ کچھ دیر دیکھ کر آگے بڑھ جاتا۔ تیسرے دن بھی اپنا گدلا سفید بوریـا زمـین پہ رکھے یہ کہنہ پوش بچہ نیلی کڑھائی والا کرتا دیکھ رہا تھا کہ ٹھیلے والے نے پوچھا:

’لینا ہے خان یہ جوڑا؟‘

’نہیں ماڑا۔ ابھی کام مندا ہے۔ ہم دعا کرتاکہ اس بار مل جائے۔‘

’خان۔جوڑا دعاؤں سے نہیں پیسوں سے ملتا ہے‘

’دعا سے ملتا ہے بھائی جان۔ ہم نے آج سحری مـیں دعا مانگا ہے اور اس وقت سے کاغذکوڑا چنتا ہے‘

’کیـا دعا مانگا ہے؟‘

’خدائے پاکا۔۔ اس سال اتنا مزدوری دے دینا کہ بس مـیں یہ والا کپڑا پہن لے ‘

’ورنہ‘

’ورنہ ہم خود کش جیکٹ پہن لے گا۔‘

’ہاہاہا۔۔۔‘ دونوں نے قہقہہ لگایـا ۔

لڑکا آگے بڑھ گیـا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔8

رمضان ٹرانسمـیشن سے واپس آتے ہوئے

۱۔     ’یـار ایسی قوم کا کیـا بنے گا جہاں ہر چوک مـیں بھکاری گاڑیوں پر دھاوا بول دیں۔اب اس بے شرم کو دیکھ ذرا۔۔۔‘

ب۔    ’یـار۔ اذان ہونے کو ہے۔ بھکاریوں کو چھوڑ۔ گاڑی بھگا اور یہ بتا کہ ایک انٹری پاس پر دو موبائل فون کیسے اڑا لیے؟‘

۱۔    ’پہلا تو اپنے لیے مانگا۔ بیس منٹ بعد کیمرہ سامنے آیـا تو ایموشنل انداز مـیں کہہ دیـا : عامر بھائی عامر بھائی۔ بیمار اماں کو بھی موبائل چاہیے‘

ب۔    ارے واہ۔کیـا بات۔اچھایہ دوسرا موبائل مجھے دے دے نا۔

۱ اور ب کے بلاوجہ کے قہقہہ مـیں بھکاری کی صدابھی شامل تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔9

(مذہبی تڑکے سے نام دام کماتا سرمایہ )

سیٹھ نے مارچ مـیں کیڑا کھجور کی دو ہزار بوری لی۔بولی کم لگی تو گودام مـیں رکھوا دی۔

رمضان کا چاند نظر آتے ہی چاندی ہو گئی۔پورے ڈیڑھ لاکھ کا منافع ہوا۔دس ہزار مسجد مـیں دئیے ، بیس ہزارمـیں سو لوگوں کے راشن تھیلے تیـار کروائے ۔ غریب عورتیں آتی تھی اور گاتی تھیں ’سیٹھ صاحب تو ولی ہیں۔۔‘

گیـارہویں روزے کی افطاری مـیں ماسی اول نے کھجور کھولی تو کیڑے سرسرائے۔تنک کر بولی:

’ یہ ریڑھی والے حرام زادے۔۔ قبروں مـیں کیڑے کھائیں انہیں۔ رمضان مـیں بھی کیڑوں کا کاروبار کرتے ہیں‘

ماسی دوم نے دوسری کھجور کھجلاتے کہا:ارے ۔ سارے اب اپنے سیٹھ صاحب جیسے تھوڑی ہیں۔ اس بار بھی سو لوگوں کو راشن دیـا ہے۔

کام کھجور سے ہے اور نسبت حضور سے ہے !‘

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 10

جام جم سے جام سفال تک

پلازے کے مرکزی داخلے پر آہنی دروازہ لگایـا جا رہا تھا۔

پانچ مزدور شدید دھوپ مـیں سیمنٹ لوہا ڈھوتے ور ہوئے تونیم گرم پانی کی گدلی بوتل اٹھا کر پلازے کے عقب مـیں آگئے۔ یہاں بھیڑ کم تھی دو جلد بازوں نے بوتل سے منہ لگایـا ہی تھا کہ تیسرے نے ٹہوکا:

’ابے ۔ کیوں مروانا ہے۔سامنے دیکھو۔ کپڑے کی دکان پہ لڑکیـاں آجارہی ہیں‘

’ہاہاہا.. گرم بہن بھائی ابے یہ دکان نہیں ہوتی۔ گوروں کے ڈریس برانڈ کا مہنگے والاشوروم ہے۔“  بارہ جماعت پاس ویلڈر بولا

’اچھا وہی نا.. ہیں تو کپڑے ہی یـار‘

’تم بس پانی پیو اور کام سٹارٹ کرو۔ اتنا بھی نہیں پتہ کہ یہ کپڑے نہیں ، سپیشل کپڑے ہوتے ہیں‘

’تو کیـا سپیشل کپڑوں مـیں آدھی باڈی ننگی ہوتی ہے ۔ ۔ہاہاہا۔۔ ’’ دوسرا مزدور بولا

ابے گاڑی مـیں دیکھ ذرا۔ کیـا یہ پانی بھی سپیشل پیتی ہیں۔‘

خوفزدہ مزدور ہنس پڑے۔

بارہ جماعت پاس ویلڈر اب کی باریہ وضاحت نہ کر سکا کہ اسے پانی نہیں، بئیر کہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔11

صابن جاناں کا۔۔ آئل مولانا کا!

مشہور ماڈل نے ملٹی نیشنل کمپنی کو فون کیـا:

دیکھئے۔ کنٹریکٹ سال کا تھا۔ آپ نے صرف چھ ماہ کی ادائیگی کی اورپچھلے ہفتہ سے اشتہار بھی اچانک بدل ڈالا ۔

’ رئیلی سوری مس۔رمضان کی وجہ سے کوکنگ آئیل والے اُس اشتہار مـیں مولانا فلاں کو ڈالنا پڑا۔ آپ جانتی تو ہیں ہی پبلک پرسیپشن۔۔۔ مگر آپ کے صابن اور لوشن والے اشتہارات ویسے ہی چلیں گے۔ براہ کرم ایک ماہ کی تکلیف ہے۔ ‘

ماڈل نے او کے کہہ کر کال ختم کر دی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 12

لو آپ اپنے دام مـیں صیـاد آ گیـا!

عصر کے بعد مولانا صبری فضائل پہ درس دیتے ہوئے بوقت افطار درون آئے فقیر کو کھجور پانی تک پیش کر دینے کی روایتیں سنا رہے تھے۔

ان کا شرارتی بیٹا بھی رہائشی منزل سے نیچے آکروعظ سنتا رہا۔

افطاری کی اذان ہوتے ہی بچے نے مولوی صاحب کے سامنے سے پانی کاجگ اٹھا لیـا۔

مولوی صاحب نے ایک تھپڑ رسید کر تے ہوئے کہا: ’ہر وقت مذاق نہیں ہوا کرتا‘

بچہ چیختے ہوئے بولا۔ ’ تو یہ بھی مان لیں ہر وقت صبر بھی نہیں ہوا کرتا ۔‘

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 13

غربت کیـا، اشارت کیـا، ادا کیـا

سیٹھ نے راشن کے دو سو تھیلے تیـار کروائے۔

محلے کی مسجد مـیں اعلان ہوا تو عصر سے پہلے ہی ڈیڑھ سو خواتین لان مـیں جمع ہو گئیں۔سیٹھ نے بڑھتا مجمع دیکھ کر دروازہ بند کرنے کا کہا۔

نوکر نے گلی مـیں بیسیوں ماسیـاں کھڑی دیکھیں تو چند ’منتخب ‘خواتین کو اشارے سے اندر بلا کر دروازہ لپیٹنے لگا۔

ایک ادھیڑ عمر خاتون اپنا برقع جھٹکتے ہوئے، آگے بڑھتے ہوئے چلائی : ’ پتر ! مـینوں وی آن دے ۔۔مـیں وی ہالے جوان آں!‘

در پہ کھڑی سب خواتین ہنس پڑیں مگر دروازہ بند ہوگیـا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔14

(ہجوم کافی ہے!)

کھجور کا معیـار ذائقہ چکھتے ہوئے گاہک بڑبڑایـا: ’ارے بھائی۔ یہ عجوہ والا ذائقہ نہیں۔ اوپر سے قیمت بھی تین گنا زیـادہ لگا رہے ہو۔‘

’بھائی جان۔ آپ نے بھرے بازار مـیں احترام رمضان قانون کی خلاف ورزی کردی۔ اسی ریٹ پہ لیں ورنہ اللہ حافظ۔ ہجوم کافی ہے۔‘

گاہک منہ صاف کرتے مسکرایـا: ’اچھا دو کلو دے دو یـار ! ‘    شوخ دکاندار نے رقم لیتے ہوئے پچاس روپے کی رعایت کر دی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 15

چڑچڑا زندگی بھر چڑچڑا ہی رہتا ہے

خشک مزاج کتابی دوست تھا۔ سال بعد ملا ہو گا۔ صرف اتنا پوچھا کہ کتنے روزے رکھے ۔ جواب دیکھئے:

’ جب اللہ مـیاں کہتے ہیں کہ روزہ مـیرے لئے ہے مـیں ہی اس کا اجر دوں گا تو سب یہ کیوں پوچھتے ہیں کہ روزہ رکھا ہے یـا نہیں؟‘

’بھئی ۔ ہم انسان بھی تو انسان سے محبت کرتے ہیں ۔ شک سے نہیں، محبت سے پوچھتے ہیں پاگل۔۔‘ مـیں نے وضاحت کی

’اگر انسان سے محبت ہے تو یہ پوچھو نا کہ اپنے بینک بیلنس اورزیور پر کتنی اورے زکواة دی ہے۔ بنگلہ زمـین کی آمدن پر کتنا تقسیم کیـا۔ فطرانہ کتنا اور کہاں دے رہے ہو۔ ۔۔ہاہاہا۔۔محبت انسان سے۔۔ تفتیش بھوک پیـاس کی۔۔بڑی عجیب بات کی!‘

یہ سوچ کر چپ رہا کہ خشک مزاج کتابی دوست زندگی بھر چڑچڑا ہی رہتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔16

(اس نے کہا ’ عدیم ! مـیرا ہاتھ تھامنا ‘  چاروں طرف سے لوگ نمودار ہو گئے)

دوسری چھت پہ مدرسہ کمروں کی تعمـیر آٹھ ماہ سے رکی پڑی تھی۔

خطبہ جمعہ چونکہ فضائل رمضان پہ تھا اس لیے چار پانچ سونمازی روزہ داروں کے اجر وثواب سنتے تھے اور سر دھنتے تھے۔

اچانک امام صاحب نے مال کی محبت ختم کیے بغیرروزہ کشی کو فقط بھوک پیـاس قرار دیتے ہوئے اور خانہ خدا کی تعمـیری روایـات و ثمرات سناتے ہوئے یہ وعید بھی دے دی کہ خدا کے پاس تمہاری بھوک پہنچتی ہے نہ پیـاس۔۔۔

بھوکے پیـاسے سرشار مقتدی اچانک متفکر سے ہوئے۔

عین اسی لمحے چندے والا توندی رومال صفوں سے گزارا گیـا جودیکھتے ہی دیکھتے اتنا بھر گیـا کہ امام صاحب نے مدرسہ کی فوری تعمـیر کے آغاز کی خوش خبری سنا دی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔17

(شعبان کا آخری گاہک)

گاہک: ’ جناب۔ آپ کا فاسٹ فوڈ سینٹر تو اب مہینہ بھر بند رہے گا۔ کرایہ کیسے نکالیں گے ؟‘

کیشئیر : ’نہیں جی۔ ہم فاسٹ فوڈ کے بند دروازے پرہی پھل فروٹ اور پکوڑوں سموسوں کی دو الگ الگ ریڑھیـاں لگوا رہے ہیں۔

امـید ہے کرایہ کے ساتھ کچھ اضافی سرمایہ بھی نکال لیں گے۔“

گاہک: ’واہ جی۔اچھا آئیڈیـا ہے۔ یعنی روزے داروں کی خدمت بھی اور۔۔۔‘

’اور ان کی حجامت بھی۔ ‘ ملازم لڑکے نے گرہ لگائی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 18

 (ویلیوز،ٹمز سے ویلیوڈٹمر تک)

’جی رابعہ بات کر رہی ہوں سر.. مسلم بینک سے.. کل شروع ہونے والے مقدس مہینے کی مبارک ہو آپ کو سر‘

’جی بہت شکریہ آپ کو بھی مبارک‘

’سر گزشتہ برس آپ نے رمضان سے پہلے اپنی رقم نکلوا لی تھی۔ اس بار بھی آپ نکلوانا چاہیں تو ہم آج رات گئے تک موجود ہیں لیکن حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق کل ہمـیں زکواة کٹوتی کرنا پڑے گی۔ ‘

’اوہو.. بالکل یـاد نہیں رہا اس بار. بہت شکریہ.. مـیں پانچ بجے تک پہنچتا ہوں۔‘

’بہت شکریہ ویلیوڈٹمر۔ بابرکت مہینے مـیں ہمـیں بھی دعاؤں مـیں یـاد رکھیے گا۔ اللہ حافظ‘

’اللہ حافظ‘

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 19

(مبارک بادیں)

شام جانے والے تازہ دستے سے الوداعی ملاقات کے بعد صدر امریکہ آفس چیئر پہ ہی نیم دراز ہوئے کہ پرسنل سیکرٹری نے آہستگی سے کہا۔

’سر۔پریس ریلیزکا فائنل ڈرافٹ تیـارہے۔ آپ کے دستخط….‘

’کونسا پریس ریلیز…‘ صدر تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔

’سر ۔ وائٹ ہاؤس آفیشل ریلیز ۔ مسلم تہوار رمضان پر آپ کا مبارکبادی پیغام ۔ ‘

’رمضان نہیں، رامادان مسٹر سیکرٹری۔ اوکے ۔ لائیے ڈرافٹ ‘

صدر ارتی مسکراہٹ پر سیکرٹری نے بھی ڈرافٹ کے ساتھ مؤدبانہ مسکراہٹ پیش کردی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہانچی نمبر۔ 20

( انسان اور شیطان)

وہ زیـادہ مذہبی نہیں تھا مگر رمضان مـیں باقاعدگی سے مسجد جاتا۔ روزانہ نماز فجر کے بعد مولوی صاحب چند منٹ کا درس دیتے تھے۔

پانچویں فجر کے بعد مولوی صاحب شیطان کے زنجیروں سے قید ہوجانے کا واقعہ چھٹی بار سنارہے تھے۔ وہ سنتا رہا۔

دعا کے بعد بلند آواز مـیں اتنا کہا : ’مولانا! شیطان کی قید کے باوجود اگر انسان کا نفس اس سے گناہ کرواتا رہتا ہے تو پھر آپ کو بھی اپنے وعظ مـیں انسان انسان زیـادہ کرنا چاہیے۔۔ شیطان شیطان کم!!!‘

یہ کہہ کر وہ فوراً باہر نکل گیـا۔ ایک جذباتی مقتدی نے فوراًمولوی صاحب سے پوچھا : ’یہ پاگلتھا؟‘

’شیطان!‘ مولوی صاحب مسکرائے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭ختم شد٭٭٭٭٭٭٭٭

]]>

Related articles




[رمضانی کہانچیـاں : مائیکرو فکشن — aik Rozan ایک روزن گرم بہن بھائی]

نویسنده و منبع: شکوررافع | تاریخ انتشار: Mon, 21 Jan 2019 21:33:00 +0000



رعنا قاری حقیقت

اردو کا نیـا فکشن — aik Rozan ایک روزن

معراج رعنا، رعنا قاری حقیقت صاحبِ مضمون

اردو کا نیـا فکشن

(معراج رعنا)

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو
چھتر پتی شاہو جی مہاراج یونیورسٹی
کانپور، بھارت

The implied author is ‘always distinct from the ‘real man’. رعنا قاری حقیقت Whatever we may take him to be who creates a superior version of himself, a ‘second self,’ as he creates his work.”

The Rhetoric of Fiction, Wayne C. رعنا قاری حقیقت Booth, P.151, Chicago 1961

کسی ادبی تحریر کو پڑھنے کے بعد اگر طبیعت مـیں گرانی پیدا ہوتی ہے تو پڑھنے والے کے ذہن مـیں یہ سوال ضرور پیدا ہونا چاہیے کہ اُس کی اس گرانیِ طبیعت کی وجہ کیـا ہے؟ کیـا زیرِ مطالعہ تحریر اجتماعی لا شعور کی پامال خواہشوں کا اظہار ہے؟ یـا پھر وہ تحریری سیـاسی تقریر کی صفت سے متصف ہے؟

جب ہم یہ سوال قائم کرتے ہیں تو اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیـا اجتماعی لا شعور کی پامال خواہشوں کا انکشافی تحریر کو اتنا گراں بار بنا دیتاہے کہ اُس کا قاری گرانیِ طبیعت مـیں مبتلا ہو جائے؟ یـا پھر یہ کہ سیـاسی تقریر عام طور پر ہر نوع کی بصیرت افزائی سے عاری ہوتی ہے؟ کیوں کہ اس مـیں عوام کے ایک بڑے طبقے کو سامعین کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا جواب اثبات مـیں نہیں دیـا جاسکتا۔ مطلب یہ کہ اجتماعی لاشعور کے اظہار کا معاملہ ہو یـا پھر سیـاسی تقریر کی عمومـیت کے بیـان کا مسئلہ، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دیکھا جائے تو ادب مـیں موضوعات و مسائل کی تقسیم و تخصیص ہی بے سود ہے۔ ادب کی سب سے بڑی قوتِ متحرکہ انسان کا داخلی وجود ہے جو اُس کی خارجی صورتِ حال سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اُس پر برابر اثر انداز بھی۔

وہ ادبی تحریر جو فرد کے داخل اور اُس کے خارج کے بیچ کے انسلاک و اتحاد سے پیدا ہوتی ہے، اُس مـیں ایک ناقابلِ بیـان فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن وہ تحریر جو فرد کی داخلی اور خارجی دنیـاؤں کے درمـیان کے تعطل سے معرضِ ظہور مـیں آتی ہے، اُس مـیں قاری کی گرانیِ طبیعت کا سامان وافر مقدار مـیں موجود ہوتا ہے۔

آٹھویں دھائی کی شاعری کے بر عآٹھویں دھائی  کی افسانوی تحریروں مـیں سے اگر ہم سلام بن رزاق، عبدالصمد، سید محمد اشرف، طارق چھتاری، شفق، حسین الحق، خالد جاوید اور ناصر عباس نیر کی افسانوی تحریریں الگ کر دیں تو باقی تحریروں کے مطالعے سے گرانیِ طبیعت کا اندازہ خوب ہوتا ہے کیوں کہ اُن مـیں فرد کیی بھی داخلی بصیرت کا خارجی حوالہ نہیں ملتا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسی تحریروں کا قبح اُن کے لکھنے والوں کی نظر مـیں حُسن ہو لیکن دراصل وہ ایک بڑا قبح ہے۔

اردو کے اکثر و بیشتر نئے فکشن نگار اس حقیقت سے بے نیـاز ہیں کہ مسائلِ محض کے اظہار سے کوئی افسانوی بیـانیہ قائم نہیں ہوتا۔ لیکن جب یہ بات کہی یـا لکھی جاتی ہے تو اِس سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ افسانوی بیـان کے ظہور کی کیـا صورت ہے؟ یـا پھر یہ سوال بھی نا گزیر حد تک اپنے جواب کا متقاضی ہوتا ہے کہ اگر مسائل کا افسانے سے کوئی علاقہ ہے تو اُس علاقے کی نوعیت حد تکی افسانوی بیـانیے کو تقویت بخشتی یـا بخش سکتی ہے؟

یہ ایک سیدھی سادی بات ہے کہ جب ہمـی تحریر کواُس کی ہیئتی شناخت کے ساتھ قبول کرتے ہیں تو اُس کے سارے اسرار و رموز ہمارے ذہنِ سلیم پر خود بہ خود واضح ہو جاتے ہیں۔ مثلا اگر کوئی افسانہ ہے تو ظاہر ہے کہ اُس مـیں ایک قصہ بھی ہوگا پلاٹ، کردار، جزئیـات نگاری، مکالمہ نگاری اور ایک نقطۂ نظر بھی ہوگا۔

غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان تمام عناصرِ مرکبہ مـیں مسئلے یـا مسائل کا کہیں بھی مذکور نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ فکشن کی بافت مـیں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فکشن مـیں کردار کا وجود ہی اس لیے قائم و دائم ہوتا ہے کہ وہ واقعات کے سلسلے کو آگے بڑھائے جوی ناول یـا افسانے مـیں قصے کی تقسیم سے پیدا ہوتے ہیں۔

پھر اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جہاں افراد( کردار )ہونگے وہاں ایک معاشرہ بھی ہوگا۔ جہاں معاشرہ ہو گا وہاں مسائل بھی ہوں گے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ افسانے کی بنت مـیں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ لیکن گڑ بڑ اُس وقت پیدا ہوتی جبی ناول یـا افسانے مـیں مسئلے کے سپاٹ بیـان کو افسانوی بیـانیہ سمجھنے کی سخت غلطی کی جانے لگتی ہے۔

اعتراض کیجیے تو اُن فکشن نگاروں( جو فکشن نگار کم اور بیـان کُنند گان زیـادہ ہیں )کی طرف سے متعدد عاری الدلیل دعوے کیے جانے لگتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن کے ہر دعوے کی مشترکہ خوبی مسائل کی ندرت سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے بات تسلیم کر بھی لیں کہ فکشن کے ظہور کی شرطِ اساسی مسئلہ ہوتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ نوع کا ہوگا؟ چلیے یہ بات بھی تسلیم کرلی جائے کہ یہاں ہر نوع کے مسائل( سماجی، سیـاسی، مذہبی، اقتصادی )کو مساوی طور پر فضیلت حاصل ہوگی۔

صاحب، جب فکشن کے توسط سے سماج، سیـاست، مذہب اور اقتصادیـات پر گفتگو مقصود ہے تو پھر فکشن پڑھنے سے کہیں زیـادہ اچھا ہے کہ Max Weber کی  Economy and Society ،Howard Zinn کی The Politics of History، ابو حنیفہ کی کتاب الاطہر اور کارل مارکی Das Kapital پڑھ لی جائے کہ اِن کی تحریریں علومِ مذکورہ کی مصادرِ اولین ہیں۔

جدید فکشن کے متعلق جو گمراہیـاں ترقی پسندوں نے پھیلائی تھیں وہ آج کے نئے فکشن کی کوتاہیـاں بن گئی ہیں۔اس لیے نئے فکشن مـیں مسائل کی متبدل صورتِ حال سے پیدا ہونے والی کشش نظر نہیں آتی۔ مسئلے کو چند خانوں مـیں منقسم کر کے اصل مسئلہ جو فرد (کردار )کے درونِ ذات سے تعلق ر کھتا ہے، اردو کے زیـادہ تر نئے فکشن مـیں معدوم الوجود نظر آتا ہے، اور جو فکشن نگار کی لاعلمـی سے زیـادہ اُس کی تادیبی سازش معلوم ہوتی ہے۔

مذکورہ سطور سے کچھ ثابت ہو یـا نہ ہو لیکن یہ بات ضرور نمایـاں ہو جاتی ہے کہ فکشن حقیقت کا نرا بیـان نہیں کہ اِس کی بنیـاد ہی جھوٹ پر قائم ہوتی ہے۔ یعنی حقائق جب تکی تخیلی دنیـا سے اپنے منطقی روابط استوار نہیں کر لیتے اُس وقت تک نہ تو مسئلے کی صداقت قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی افسانوی بیـانیہ کا ظہور ممکن ہو سکتا ہے۔

چونکہ یہ تخلیقی شعور نئے فکشن مـیں ناپید ہے اس لیے زبان کی وہ سحر آفرینی بھی نظر نہیں آتی جو افسانوی بیـانیے کی تولیدی سبیل بھی ہے اور خارجی مسائل کی تخیلی تحلیل بھی۔ اس بات کو مندرجہ ذیل مثالوں سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:

وہ دلیر عورت ہے۔ مـیں جانتا ہوں۔ ورنہ مـیں نے
ایسی عورتیں بھی دیکھی ہیں جو ایک گھر
مـیں پانچ پانچ بچے جننے کے بعد دوسرے
مرد کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں۔ وہ رکا، عورتیں
بری نہیں ہوتیں۔ یہ مـیرا یقین ہے، پر اپنے اپنے
حوصلے کی بات ہے۔ جس کا حوصلہ نہیں ہوتا
وہ کبھی محبت نہیں کر سکتی۔ اسے ساری
عمر دھوکہ دہی سے کام لینا پڑتا ہے۔
(اداس نسلیں۔ص۱۰۵)

الیـاسف نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور جب الیـاسف
نے آنکھیں بند کیں تو اُس کا دھیـان اندر کی
طرف گیـا اور اس نے جانا کہ وہی اندھیرے
کنوئیں مـیں دھنستا جا رہا ہے اور الیـاسف نے
درد کے ساتھ کہا کہ اے مـیرے معبود مـیرے باہر
بھی دوزخ ہے، مـیرے اندر بھی دوزخ ہے۔
(آخری آدمـی،ص ۲۶)

اب راماناتھن کہہ رہا ہے۔ اگر تم لوگ نہ آئے ہوتے
تب بھی ہندوستان مغربی علوم سے بہرہ ور ہو
جاتا، ٹیپو سلطان شہید اور راجہ رام موہن رائے
دونوں فرانس کے مداح تھے۔۔۔ اب ہمارے مقابلے
پر ایک ہیرو کی ضرورت محسوس ہوئی، تم
چالاک لوگوں نے اُسے اور سراج الدولہ کو ہیرو
بنا لیـا۔ دونوں اینٹی ہندو تھے۔
(آخرِ شب کے ہمسفر، ص ۱۸۸)

بس وہی منظر یـاد آتا ہے۔ ایک گھوڑے پر تیمور بیٹھا
ہے،اس کا چہرہ دشمنوں کے خون سے لتھڑا ہے۔
سامنے گھوڑے پر ایک بے سر کا دھڑ ہے جو ابھی
تک گھوڑے پر سوار ہے اور فضا مـیں ہیبت سے پھٹی
آنکھوں والا ایک سر ہے جو ابھی زمـین پر گرا نہیں
ہے۔دونوں ایک ہی وجود کے حصے ہیں اور دونوں
مـیں ابھی روح ہے۔
(آخری سواریـاں،ص ۱۹۱)

مندرجہ بالا اقتباسات اردو کے چند مشہور ناول اور افسانے سے لیے گئے ہیں، جن مـیں حقائق کی متبدل صورتِ حال سے ایک نئے قصے کی بافت نمایـاں ہے اور زبان کا وہ طلسم بھی جو بیـانیہ کی شرطِ اساسی بھی ہے حقائق کو تخیل سے مربوط کرنے کا وسیلہ بھی۔

اردو کے نئے فکشن نگاروں کے یہاں یہ غلط فہمـی بھی رائج ہو گئی ہے کہی حادثے کا من و عن بیـان ہی درون اصل حقیقت پسندی ہے۔ جب کہ حقیقت پسندی یہ ہے کہ خیـال کی مدد سے کوئی ایسا واقعہ گھڑا جائے جس پر حقیقت کا گمان گزرتا ہو یـا گزرنے کا امکان رکھتا ہو۔

شائد یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات ہمـیشہ حادثے کی تلاش مـیں رہتے ہیں۔ نتیجتا معاشرے مـیں جوں ہی کوئی حادثہ رو نما ہوتا ہے، اُن کے قلم سے دھڑا دھڑ افسانے اور ناول نازل ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اُنھیں یہ کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ٹھہر کر یہ سوچ سکیں کہ اُن کے ناولوں اور افسانوں مـیں کوئی ایسا بابِ معنی بھی ہے جہاں قاری داخل ہوکر متحیر ہو جائے۔

]]>

Related articles

: رعنا قاری حقیقت




[اردو کا نیـا فکشن — aik Rozan ایک روزن رعنا قاری حقیقت]

نویسنده و منبع: معراج رعنا | تاریخ انتشار: Thu, 10 Jan 2019 14:44:00 +0000



رعنا قاری حقیقت

ہم لکھتے کب نہیں: قاری کے نام معافی نامہ — aik Rozan ایک روزن

اصغر بشیر، رعنا قاری حقیقت صاحب تحریر

اصغر بشیر

لکھنا ایک طرح سے عہدِ تجدیدِ وفا کا عمل ہے۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ہم اپنے آپ سے عہد کی تجدید کرتے رہتے ہیں۔ جوںہی عہد کی تجدید کا عمل رکتا ہے ، لکھنے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔ پھر آدمـی جتنے مرضی جتن کرئے، قلم ہاتھ مـیں لے کر بیٹھا رہے، ورڈ کھول پر کی بورڈ پر انگلیـاں مارتا رہے، کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ چند مہینے پہلے پتہ نہیں کیـا ہوا کہ اچانک لکھنا چھوڑ دیـا۔ دن پر لگا کر اڑنے لگے۔ راتیں فلموں اور ڈراموں کی نظر ہونے لگیں لیکن مـیوز ناراض ہی رہی۔ اے مـیرے قاری، مـیری بات سنئے۔ آج پچھلے چند مہینوں کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو سوائے دھول کے کچھ نظر نہیں آتا۔ آج جب کہ مـیوز ابھی تک ناراض ہےاور ذہن حسب معمول سویـا ہوا ہے۔ مـیں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپنی طرف سے ایک معافی نامہ قاری کے نام لکھوں، مـیں اس مـیں اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ مـیں اتنے دن اپنے فرض سے غافل رہا ہوں۔

ہم لکھنے والے بھی کیـا کریں، ہم اسی زمـین مـیں رہتے ہیں۔ یقیناً لکھنا ایک لازمـی عمل ہے لیکن دنیـا کے تمام فلسفے اور ذمہ داریـاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں جب ہمارے پیٹ کی بھوک نہیں مٹتی۔ سیـانے کہتے ہیں کہ بھوک تخلیقی ذہن کو لکھنے پر مجبور کرتی ہے ۔ یہ باتی حد تک درست ہے لیکن جب ہمارے بچے اور دوسرے انحصار کرنے والے افراد بنیـادی ضروریـات زندگی سے محروم ہوتے ہیں تو ہم لفظ تو کیـا خود کو بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہی وقت جو ہم چند الفاظ اور معانی گھڑنے پر لگائیں گے بہتر ہے ایک اور ٹیوشن پڑھا لیں یـا پھری فری لانسنگ پری امـیر زادے کو اسائمنت بنا دیں ، چلیں کچھ پیسے تو ملیں گے۔ اس صورت حال مـیں قاری کا نقصان ہوتا ہے، لکھنے والے کا ذہن مر که تا ہے لیکن معاشرتی طاغوتی طاقتوں کی جیت ہوتی ہے۔ بقا کی جنگ مـیں انسانیت کہیں پہلی جھڑپوں مـیں مر جاتی ہے۔

مـیرے قاری، مـیرے دوست، مجھ سے پوچھتے ہیں بھائی بڑے دن ہوگئے کوئی تحریر نظر نہیں آئی۔ یہ ایک اچھا عمل ہے کیونکہ اس سے لکھنے والے کو اپنے آپ سے اور اپنے عہد سے بے وفائی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنے آپ مـیں مجبور ہوتے ہیں، تو یہ عمل مثبت کی بجائے منفی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔لکھنے والے کے اندر خودستائی کا جذبہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خود ترسی اور خودستائی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو المـیاتی صورت حال مـیں ہم اپنے آپ سے ہار مان کر زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ مـیں سمجھتا ہوں کہ اگر معاشرتی عوامل اپنا بہتر کردار ادا کریں تو اس صورت حال مـیںی حد تک کمـی لائی جا سکتی ہے۔ ایک لکھنے والا جب بنجر دور سے گزر رہا ہوتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ کچھ نہ کچھ پڑھتا رہے۔ اگر پڑھ نہیں سکتا تو کم از کم چند لمحات کے لیے پڑھنے یـا لکھنے کا پوز بنا کر ضرور بیٹھا رہنا چاہیے۔ اس سےی حد تک جھوٹی ہی سہی ، تجدید ِ وفا تو ہوتی رہتی ہے۔

لکھنے کا عمل ایک مہارت ہے جو مسلسل مشق سے نکھرتی ہے اور بے اعتنائی برتنے سے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ اگری نے لکھنا چھوڑ دیـا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو لکھنا بھول گیـا ہے، یقیناً اس کی مہارت مـیں کچھ کمـی آئےمگر مکمل بھول نہیں سکتا۔ تاریخ مـیں کتنے ایسے واقعات ہیں کہ زندگی کے ابتدائی سالوں مـیں لکھنے کا ہنر جاننے والے اپنی زندگی مـیں مگن ہوگئے اور پھر ادھیڑ عمر مـیں جا کر انہیں یـادِ ماضی ستائی تو انہوں نے دنیـا کو فن پارے دیے۔ یقیناً مثبت سوچ ہمـیشہی انجام کا اشارہ دیتی ہوتی ہے۔

اے مـیرے قاری، جب ہم معاشرے مـیں مجموعی لکھنے والوں کی طرف توجہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تخلیقی بنجر پن کا عمل قریباً سبھی لکھنے والوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اگر بنجر دور کچھ عرصے بعد ختم ہوکر لکھنے والے اپنے اصل کی طرف لوٹتے رہیں تو یہ ایک اچھا شگون ہے۔ لیکن اگر جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے تو یقیناً یہ شخصی عوامل سے بالاتر چیز ہے۔ اگر ہمارے عمومـی معاشرتی عوامل ایک شخص کو ایسے مواقعے فراہم نہیں کرتے جن کی بنیـاد پر وہ اپنے کمفرٹ زون مـیں واپس آسکے تو ایسی صورت حال مـیں معاشرہ بذات خودی مصنف کو کھونے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

مـیں اپنے قاری سے اپنی غیر موجودگی کی معافی مانگتا ہوں، مـیں قاری کے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ مـیں مجموعی معاشرتی عوامل سے لڑتے ہوئے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ لیکن سوچتا ہوں کہ کتنے لوگ ہوں گے جو ایسا کر سکتے ہوں گے۔ یقیناً بہت کم ہوں گے۔ہم سے ہر ایک فرد کل کا حصہ ہے ، ہم سے ہر ایک کو بطور قاری اپنے لکھنے والوں کو بچانا ہوگا۔ ہمـیں اپنے لکھنے والوں کو بچانے کےلیے باہر نکلنا ہوگا، ہمـیں ہر ایک کو بطور فرد اپنا فرض نبھانا ہوگا که تا کہ معاشرہ بدل سکے۔

]]>

Related articles

. رعنا قاری حقیقت . رعنا قاری حقیقت : رعنا قاری حقیقت




[ہم لکھتے کب نہیں: قاری کے نام معافی نامہ — aik Rozan ایک روزن رعنا قاری حقیقت]

نویسنده و منبع: اصغر بشیر | تاریخ انتشار: Thu, 10 Jan 2019 19:38:00 +0000



تمامی مطالب این سایت به صورت اتوماتیک توسط موتورهای جستجو و یا جستجو مستقیم بازدیدکنندگان جمع آوری شده است
هیچ مطلبی توسط این سایت مورد تایید نیست.
در صورت وجود مطلب غیرمجاز، جهت حذف به ایمیل زیر پیام ارسال نمایید
i.video.ir@gmail.com